بی وائی سی کے امدادی کیمپوں کو ہٹانے و رضاکاروں ہراساں کیا جارہا ہے،ڈاکٹرماہ رنگ

ایڈمن
ایڈمن
6 Min Read

گوادر میں طوفانی بارشوں و سیلاب سے متاثرہ عوام کے لیے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے لگایا گیا امدادی کیمپ کو ہٹانے پر ردعمل دیتے ہوئے بی وائی سی کے رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے کہا کہ 27 فروری کو گوادر میں ہونیوالی طوفانی سیلاب کے بعد بلوچ یکجہتی کمیٹی کی ٹیم 29 فروری سے گوادر میں موجود ہے۔ ٹیم نے گوادر کے مختلف محلوں سمیت جیونی، پلیری، سربندن، جیونی کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا ہے۔ آج بھی گوادر کے ارد گرد کے کئی سے چھوٹے چھوٹے گاؤں کا گوادر سے زمینی رابطہ منقطع ہے اور وہاں اب بھی پانی موجود ہے۔

انھوں نے کہاکہ سیلاب سے گوادر عوام کو تین طرح کے نقصانات ہوئے ہیں۔ پہلا نقصان لوگوں کے گھروں کا ھوا ہے لوگوں کے گھر مکمل تباہ ھوچکے ہیں ہزاروں لوگ بے گھر ھوچکے ہیں۔ دوسرا نقصان ماھیگیروں کو ھوا ہے۔ گوادر عوام کا پیشہ ماھیگیری ہے، ان طوفانی بارشوں سے ماھیگیروں کے اسپیڈ بوٹس اور کشتیاں سمندر برد ہوچکے ہیں اور نقصان جیونی اور پیشکان کے لوگوں کی فصلوں کا ھوا ہے۔ جیونی اور پیشکان کے ارد گرد کے علاقوں میں بھت سے لوگ کھیتی باڑی سے منسلک ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سیلاب سے انکی فصیلیں برباد ہوچکی ہیں، لوگ مصیبت کی زندگیاں گزار رہے ہیں۔ گوادر میں ایمرجنسی ڈکلیئر ھونے کے بعد سے اب تک ضلعی انتظامیہ کو ھم نے کسی جگہ نہیں دیکھا ہے گوادر کے نام پر جو امداد انکو مل رہی ہیں انھیں گوادر عوام تک نہیں پہنچائی جارہی ہے۔ آج بھی گوادر شہر کے گھروں میں پانی جمع ہے۔ 12 دنوں سے عوام آسمان تلے زندگیاں گزار رہے ہیں۔ ہزاروں لوگ بے گھر ھوچکے ہیں لیکن انکی آواز کوئی نہیں بن رہا ہے ۔کوئی میڈیا چینل اس بات کو سامنے نہیں لے آرہا ہے اور نہ ہی کوئی میڈیا چینل گراؤنڈ میں موجود ہے کہ وہ گوادر عوام کی آواز کو آگے لے جاسکے۔

انھوں نے کہاکہ ایک ڈسٹرکشن سیلاب نے کی ہے اور ایک ڈسٹرکشن انتظامیہ کی نااہلی کی وجہ سے ھورہی ہے۔ اگر انتظامیہ شروع دن سے متحرک ھوتا اور لوگوں کے گھروں سے پانی نکالتا تو شاید آج کچھ گھر بچ جاتے لیکن انتظامیہ نے ایسا کچھ نہیں کیا ہے۔

انھوں نے کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی نے پورے بلوچستان میں امدادی کیمپ قائم کیے ہیں۔ ھم نے تمام جگہوں میں سروے کیا۔ ڈیٹا جمع کررہے ہیں اور ساتھ ساتھ لوگوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی نے چھ جگہوں پر میڈیکل کیمپ قائم کیے ہیں۔ ھماری ٹیم وہاں وہاں گئی ہے جہاں اسٹیٹ کی کوئی مشینری نہیں ہے۔ جہاں راستے بھی منقطع ہیں۔

انھوں نے کہاکہ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ ایک امدادی کیمپ جو کسی کے لیے نقصان دہ نہیں ہے جو لوگوں کی مدد کے لیے لگائی گئی ہے تاکہ اس مشکل حالات میں سرکار اور اسکی مشینری نے عوام کو نظر انداز کیا ہے تو عوام خود اپنی مدد آپکے تحت متاثرین کی مدد کرسکیں لیکن بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رضاکاروں کو ھراساں کیا جارہا ہے۔ کیمپ کا محاصرہ کیا جارہا ہے۔ رضاکاروں کی پروفائلنگ بھی کی جارہی ہے۔ کیمپ ختم کرانے کی دھمکیاں بھی دی جارہی ہیں۔ گوادر سمیت خاران میں بھی جو امدادی کیمپ بلوچ یکجہتی کمیٹی نے لگایا ہے وہاں بھی رضاکاروں کو مسلسل ھراساں کیا جارہا ہے اور انکو کہاجارہا ہے کہ اگر دوبارہ کیمپ لگایا تو آپکو اغوا کیا جائیگا۔

انھوں نے کہاکہ ضلع گوادر کے لوگوں کے مسائل حد سے زیادہ ہیں۔ گوادر پورٹ سٹی ضرور ھوسکتی ہے لیکن یہاں کے مقامی لوگ سالوں سے انکو بنیادی سہولیات نہیں مل رہے ہیں۔ سرکار انکو سہولیات دینے کے بجائے ان سخت حالات میں جو متاثرین کی مدد کررہے ہیں اس امداد کو بھی روکنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ان سخت حالات میں بھی عوام کو انتشار کی جانب لے جایا جارہا ہے۔ ھم بار بار کہہ رہے ہیں کہ اگر کسی کو یہ امدادی کیمپ لگانے سے کوئی مسئلہ ھورہا ہے تو وہ ھم سے رابطہ کریں لیکن کوئی سامنے سے ھمارے ساتھ بات کرنے بھی نہیں آرہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ھم نے این او سی کے لیے درخواست بھی دی ہے ،حالانکہ امدادی کیمپ لگانے کے لیے کسی این او سی کی ضرورت نہیں۔ ھمارا کیمپ کوئی مشتعل انگیز چیز نہیں ہے کہ جس کے لیے ھمیں انتظامیہ سے اجازت لینا چاہیے۔ امدادی کام انتظامیہ کو خود کرنا چاہیے تھا لیکن وہ نااہل ہیں اس لیے گوادر کے رضاکار اور بلوچ یکجہتی کمیٹی مل کر یہ کام کررہے ہیں ۔ ھم انتظامیہ سے یہی کہنا چاھتے ہیں کہ خدارا وہ اپنے اس اوچھے ھتکھنڈوں سے پیچھے ھٹیں۔

ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ یہ کیمپ گوادر عوام کی مدد کے لیے لگائی گئی ہے۔ اب تک پورے بلوچستان میں پندراں سولہ امدادی کیمپس لگائے گئے ہیں اور ھم گوادر کے عام عوام کی آواز پوری دنیا تک اور اپنے بلوچ عوام تک پہنچانا چاھتے ہیں۔ اگر انتظامیہ نے ایسا کوئی عمل کیا تو اسکے بعد جو حالات ھونگے اسکے ذمہ دار انتظامیہ ہوگی۔

Share This Article
Leave a Comment