سویڈن نیٹو کا با قاعدہ رکن بن گیا

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

سویڈن نیٹو کا با قاعدہ طور پر رکن بن گیا۔

مغربی سفارتی حلقوں نے سویڈن کی نیٹو میں شمولیت کو اس فوجی اتحاد کے لیے ایک تاریخی دن قرار دیا ہے۔ سویڈن اپنی دو سو سالہ غیر جانبداری کی پالیسی ختم کرتے ہوئے نیٹو کا حصہ بنا ہے۔

الحاق کا یہ عمل سویڈش وزیر اعظم کی جانب سے واشنگٹن میں اس حوالے سے حتمی کاغذی کارروائی مکمل کرنے کے بعد پورا ہوا۔

امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ دو صدیوں کی غیر جانبداری اور دو سال کی سفارت کاری کے بعد جمعرات کو سویڈن باضابطہ طور پر شمالی بحر اوقیانوس کے معاہدے کی تنظیم (نیٹو) کا رکن بن گیا۔

سویڈن کے وزیر اعظم اولف کرسٹرسن کے سرکاری اکاؤنٹ سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا گیا، ”ہم اتحاد، یکجہتی اور بوجھ بانٹنے کے لیے کوشش کریں گے اور واشنگٹن معاہدے کی اقدار آزادی، جمہوریت، انفرادی آزادی اور قانون کی حکمرانی پر مکمل طور پر عمل کریں گے۔‘‘ امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ اتحاد کے سب سے نئے رکن کے طور پر سویڈن کو خوش آمدید کہنے پر انہیں فخر ہے۔ انہوں نے مزید کہا، ٹرانس اٹلانٹک سیکورٹی اب پہلے سے زیادہ مضبوط ہے۔‘‘

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے الحاق کی تقریب میں شرکت کے موقع پر کہا، یہ سویڈن کے لیے ایک تاریخی لمحہ ہے۔ یہ اتحاد کے لیے تاریخی ہے۔ یہ ٹرانس اٹلانٹک تعلقات کے لیے تاریخی ہے۔‘‘

نیٹو کے سیکرٹری جنرل ژینس اسٹولٹن برگ نے ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا،سویڈن کا الحاق نیٹو کو مضبوط، سویڈن کو محفوظ اور پورے اتحاد کو زیادہ محفوظ بناتا ہے۔‘‘

سویڈیش وزیر اعظم کا کہنا تھا، آج واقعی ایک تاریخی دن ہے۔ سویڈن اب نیٹو کا رکن ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ہم اپنے قریبی ترین ممالک کے ساتھ مل کر جغرافیے، ثقافت اور اقدار کے لحاظ سےاپنی آزادی کا دفاع کریں گے۔‘‘

سویڈن کا جھنڈا پیر کو بیلجیم کے دارالحکومت برسلز میں نیٹو کے ہیڈ کوارٹر میں لہرائے جانے کی توقع ہے۔

Share This Article
Leave a Comment