غزہ میں امداد کے منتظر افراد پراسرائیل کا حملہ ،112ہلاک، تعداد 30 ہزار سے متجاوز

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

گذشتہ روزجمعرات کو شمالی غزہ میں امدادی ٹرکوں کی طرف سے امداد حاصل کرنے کے لیے جمع ہونے والے افراد پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں کم از کم 112 فلسطینی ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ 760 زخمی ہیں۔

کہا جارہا ہے کہ غزہ شہر کے جنوب مغرب میں واقع ساحلی سڑک پر آنے والے امدادی ٹرکوں کو ہجوم نے گھیر لیا تھا اور اس وقت وہاں اسرائیلی ٹینک بھی موجود تھے۔

جمعرات کو ہونے والا واقعہ غزہ شہر کے جنوب مغربی کنارے پر واقع نابُلسی چوک پر مقامی وقت کے مطابق چار بج کر 45 منٹ کے بعد پیش آیا۔

مصری امداد سے بھرا 30 ٹرکوں کا قافلہ شمال کی طرف آ رہا تھا جب عام عوام نے اسے گھیر لیا اور اس پر چڑھنے لگے۔

یہ قافلہ اس راستے کا استعمال کر رہا تھا جسے اسرائیلی فوج ’انسانی راہداری‘ کہتی ہے۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ انھوں نے ہجوم کو خبردار کرنے کے لیے فائرنگ کی لیکن قافلے کو نشانہ نہیں بنایا۔ کچھ فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں نے براہِ راست ان پر فائرنگ کی۔

ایک فلسطینی عینی شاہد نے غیر ملکی میڈیا کو بتایا کہ زیادہ تر اموات اس وقت ہوئیں جب ٹرک ڈرائیورز نے وہاں سے نکلنے کی کوشش کی اور اس دوران متعدد افراد کچلے گئے۔

اسرائیل کی طرف سے آسمان سے بنائی گئی ڈرون ویڈیو میں سینکڑوں لوگوں کو ٹرکوں کے اوپر اور ارد گرد دیکھا جا سکتا ہے جبکہ انٹرنیٹ پر لگائی گئی ویڈیوز میں لاشوں کو خالی امدادی ٹرکوں اور گدھا گاڑی پر پڑے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

غزہ کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے112 فلسطینیوں کا قتلِ عام کیا اور 760 لوگ زخمی ہوئے۔

اس واقعے کے بعد سے عالمی برادری کی جانب سے اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بند کمرہ اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس واقعہ سے قبل غزہ کی وزارت صحت نے اب تک 30 ہزار سے زیادہ ہلاکتوں کی تصدیق کی تھی ۔

وزارت صحت کے مطابق سات اکتوبر کے بعد سے اب تک 21 ہزار بچے اور خواتین مارے گئے ہیں۔ سات ہزار لوگ لاپتہ ہیں اور 70 ہزار 450 افراد زخمی ہیں۔

اقوام متحدہ نے غزہ کے شمال میں قحط کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ اس علاقے میں تین لاکھ لوگ ہیں اور ان کے پاس خوراک اور صاف پانی کے محدود زخائر موجود ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment