بھارت میں جلد متنازع شہریت ترمیمی قانون کے نفاذ کا امکان

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read
فوٹو: اے بی پی نیوز

بھارت میں عام انتخابات سے قبل ہی اگلے چند دنوں کے اندر متنازع شہریت ترمیمی قانون نافذ کردیے جانے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔

بھارتی وزارت داخلہ کے ذرائع نے منگل کے روز کہا کہ شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے نفاذ کے لیے ضابطوں کا اعلان اگلے ہفتے کے اندر کردیا جائے گا۔

بھارتی پارلیمان نے اس قانون کو دسمبر 2019 میں منظوری دے دی تھی لیکن ا س کے خلاف پورے ملک میں بڑے پیمانے پر مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا، جو کورونا وبا کے متعلق قوانین پر عمل درآمد کے بعد ہی بند ہو سکا تھا۔

بھارتی وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے کہا، "میں حتمی تاریخ تو نہیں بتا سکتا لیکن اسے مثالی انتخابی ضابطہ اخلاق کے عمل میں آنے سے قبل ہی نوٹیفائی کردیا جائے گا۔”

بھارتی پارلیمان نے دسمبر 2019ء میں شہریت ترمیمی قانون کو منظوری دی تھی، جس کے تحت یکم جنوری 2015ء سے قبل بھارت میں موجود پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان کے ہندو، جین، سکھ، پارسی، مسیحی اور بودھوں کو شہریت دینے کی بات کہی گئی ہے لیکن اس میں مسلمانوں کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔ ماہرین قانون اسے مسلمانوں کے ساتھ تفریقی سلوک اور بھارتی آئین کے سیکولر اصولوں کے منافی قراردیتے ہیں۔

یہ قانون اس مفروضے کی بنیاد پر مذہبی اقلیتوں کو شہریت دیتا ہے کہ ان تینوں اسلامی ملکوں میں مذہبی اقلیتوں کومذہب کی بنیاد پر ظلم و ستم کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے بھی اس ماہ کے اوائل میں کہا تھا کہ سی اے اے قوانین کو لوک سبھا انتخابات سے پہلے نوٹیفائی اور نافذ کیا جائے گا۔

نئی دہلی میں ایک گلوبل بزنس سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا،”سی اے اے اس ملک کا قانون ہے۔ اسے آئندہ عام انتخابات سے قبل نوٹیفائی کردیا جائے گا۔ کسی کو اس کے بارے میں کنفیوژن نہیں ہونا چاہئے۔”

بھارتی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ "یہ قانون کانگریس کا وعدہ تھا۔ جب ملک تقسیم ہوا اور ان ممالک میں اقلیتوں پر ظلم و زیادتی کی گئی، تو کانگریس نے پناہ گزینوں کو یقین دہانی کرائی تھی کہ بھارت میں ان کا خیر مقدم ہے اور انہیں بھارتی شہریت دی جائے گی، لیکن کانگریس اپنے وعدے سے مکر گئی۔”

متنازع سی اے اے کا نفاذ ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لوک سبھا انتخابات 2019اور مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کا اہم انتخابی ایجنڈہ تھا۔ حالیہ مہینوں میں کئی مرکزی وزراء بھی کہہ چکے ہیں کہ سی اے اے کو آئندہ عام انتخابات سے قبل نافذ کردیا جائے گا۔

اس قانون پر سخت نکتہ چینی ہوئی تھی اور اسے جانبدارانہ قرار دیا گیا تھا۔ اس قانون کے خلاف پورے ملک میں زبردست مظاہرے ہوئے تھے۔ حکومت نے مظاہرین کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں جیلوں میں ڈال دیا تھا، جن میں متعدد اب بھی قید میں ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment