لاہور: خاتون توہین مذہب کے الزام میں مشتعل ہجوم کے ہاتھوں بال بال بچ گئیں

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے بڑے شہر لاہور میں گذشتہ روزایک خاتون توہین مذہب کے الزام میں مشتعل ہجوم کے ہاتھوں بال بال بچ گئیں۔

اتوار کو لاہور میں ایک خاتون کو اچھرہ بازار میں دوران شاپنگ ان کے لباس کے ڈیزائن کی وجہ سے مشتعل ہجوم کی جانب سے توہین مذہب کے الزام کا نشانہ بنایا گیا۔

ہجوم نے الزام عائد کیا تھا کہ خاتون کے لباس کے پرنٹ پر قرآنی آیات لکھیں گئی ہیں۔

اس صورتحال میں پنجاب پولیس کی خاتون پولیس آفیسر اے ایس پی گلبرگ شہر بانو نقوی کی جانب سے بروقت کارروائی نے صورتحال کو نہ صرف بگڑنے سے بچایا بلکہ خاتون کو بھی مشتعل ہجوم سے بحفاظت نکالنا ممکن بنایا۔

جبکہ بعدازاں مقامی علما کی جانب سے یہ تصدیق کی گئی کہ خاتون کی قمیض پر موجود پرنٹ پر کوئی قرآنی آیت نہیں لکھی ہے۔

اتوار کی دوپہر لاہور کے بازار اچھرہ میں اپنے شوہر کے ہمراہ شاپنگ کے لیے آنے والی ایک خاتون کے لباس کے ڈیزائن پر عربی حروف میں چند الفاظ لکھے تھے جس پر مشتعل ہجوم کی جانب سے خاتون پر الزام عائد کیا گیا کہ انھوں نے مبینہ طور پر قرآنی آیات کے پرنٹ والا لباس زیب تن کر کے توہین مذہب کی ہے۔

جس کے بعد اچھرہ بازار میں لوگوں کی تعداد اکھٹا ہونا شروع ہو گئی اور مشتعل ہجوم نے خاتون اور ان کے شوہر کو ہراساں کرنا شروع کر دیا۔

صورتحال بگڑنے پر خاتون کی جانب سے لاہور پولیس کو مدد کے لیے اطلاع دی گئی جس پر خاتون اے ایس پی گلبرگ سیدہ شہربانو نقوی فوراً موقع پر پہنچی اور صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکتے ہوئے مقامی علما دین کی مدد سے نہ صرف مشتعل ہجوم کے ساتھ معاملہ فہمی کرتے ہوئے ان کے مذہبی جذبات کو قابو کیا بلکہ مذکورہ خاتون کو بھی ان کے درمیان سے بحفاظت نکالنے میں کامیاب ہو گئیں۔

پاکستان میں توہین مذہب یا توہین رسالت کے الزام میں کسی شخص پر مشتعل ہجوم کی جانب سے تشدد کرنے کے واقعات نئے نہیں ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment