ایران کی جانب سے روس کو سینکڑوں بیلسٹک میزائل فراہم کرنیکا انکشاف

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read
فوٹو بشکریہ اے پی

ایران نے روس کو بڑی تعداد میں زمین سے زمین تک مار کرنے والے طاقتور میزائل فراہم کیے ہیں ۔

یہ بات خبر رساں ادارے رائٹرز کو چھ ذرائع نے بتائی جس سے ان دو نوں ملکوں کے درمیان، جن پر امریکہ نے پا بندیاں عائد کر رکھی ہیں، فوجی تعلقات میں اضافے کی عکاسی ہوتی ہے ۔

تین ایرانی ذرائع نے بتایا کہ ایران کی طرف سے فراہم کردہ لگ بھگ 400 میزائلوں میں سے بہت سے کم فاصلے پر مار کرنے والے بیلسٹک میزائل’ فاتح۔ 110‘ شامل ہیں ۔

ماہرین کہتے ہیں کہ یہ روڈ۔موبائل میزائل 300 سے 700 کلو میٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ایران کی وزارت دفاع اور ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کی نگران فورس، پاسداران انقلاب نے اس بارے میں کسی تبصرے سے انکار کر دیا ۔ روس کی وزارت دفاع نے بھی تبصرے کی درخواست پر فوری طور پر کوئی رد عمل نہیں دیا۔

ایک ایرانی ذریعے نے بتایا کہ میزائلوں کی ترسیل گزشتہ سال تہران اور ماسکو میں ایرانی اور روسی فوجی اور سیکیورٹی عہدے دارو ں کے درمیان ہونے والی میٹنگز میں ایک معاہدہ طے پانے کے بعد جنوری کے اوائل میں شروع ہوئی ہے۔

17 فروری 2024 کو حاصل کی گئی اس تصویر میں ایران کے شہر تہران میں تقریب کے دوران دکھائے جانے والے مختصر فاصلے کے فضائی دفاعی نظام آذرخش کی ایک تصویر جو ویسٹ ایشیا نیوز ایجنسی سے رائٹرز نے حاصل کی۔

ایک ایرانی فوجی عہدے دار نے،جس نے معلومات کی حساسیت کی وجہ سے دوسرےذرائع کی طرح اپنا نام ظاہرنہ کرنے کی درخواست کی،کہا کہ میزائلوں کی کم از کم چار رسدیں بھیجی جا چکی ہیں اور آنے والے ہفتوں میں مزید بھیجی جائیں گی ۔ عہدے دار نے مزید تفصیلات فراہم کرنے سے انکار کر دیا۔

ایران کے ایک اور سینئر عہدے دار نے کہا کہ کچھ میزائل ایران اور روس کے درمیان واقع بحیرہ کیپسین کے راستے بحری جہاز کے ذریعے روس بھیجے گئے تھے،جبکہ کچھ کو طیاروں کے ذریعے منتقل کیا گیا تھا۔

دوسرے ایرانی عہدے دار نے کہا کہ ،”مزید ترسیل کی جائے گی ۔ اسے چھپانے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ ہم کسی بھی ملک کو جسے ہم چاہیں ہتھیار برآمد کر سکتے ہیں۔ "

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے ایران کے کچھ میزائلوں، ڈرونز اور دیگر ٹیکنالوجیز کی برآمد پر عائد پابندیاں اکتوبر میں ختم ہو گئی ہیں ۔ تاہم، امریکہ اور یورپی یونین نے ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر کچھ پابندیاں ان خدشات کے پیش نظر بر قرار رکھی ہیں کہ وہ اپنے ہتھیار مشرق وسطیٰ اور روس میں اپنی پراکسیز کو برآمد کر سکتا ہے ۔

رائٹرز کے مطابق اس معاملے سے واقف ایک چوتھے ذریعے نے تصدیق کی کہ روس نے حال ہی میں ایران سے بڑی تعداد میں میزائل وصول کیے ہیں ۔ اس نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

Share This Article
Leave a Comment