پاکستان کے صوبہ سندھ میں پاکستانی فورسز کے ہاتھوں قتل ہونے والے ہدایت لوہار کے لاش کے ہمراہ لواحقین کا دھرنا جاری ہے جبکہ جئے سندھ فریڈم موومنٹ نے 10 روزہ سوگ کا اعلان کردیاہے۔
وائس فار مسنگ پرسنز آف سندھ کی رہنما سورٹھ لوہار اور سسوئی لوہار کے والد ہدایت لوہار کو آج صبح نصیرآباد میں مسلح افراد نے قتل کردیا ہے۔
وہ اسکول سے چھٹی کے بعد گھر جارہے تھے کہ مسلح افراد نے فائرنگ کرکے قتل کردیا۔
یاد رہے کہ ہدایت لوہار 17 اپریل 2017 سے جولائی 2019 تک لاپتہ رہے ہیں۔ جن کی آزادی کے لیئے ان کی بیٹی سورٹھ اور سسئی لوہار نے کئی سال تک جدوجہد کی تھی۔
ہدایت لوہار پیشے سے ایک استاد تھے اور 1980 کی دِہائی سے جیئے سندھ کے ایک سرگرم سیاسی کارکن بھی رہے ہیں۔
وائس فار مسنگ پرسنز آف سندھ کی رہنما سسوئی لوہار کی رہنمائی میں نصیرآباد، لاڑکانہ بائی پاس پر ہدایت لوہار کی لاش رکھ کر دھرنا دیا گیا ہے جبکہ دوسری جانب سندھ بھر میں سندھ کے سیاسی ، سماجی، انسانی حقوق اور قوم پرست جماعتوں کی جانب بھرپور ردعمل کیا جا رہا ہے۔
دوسئ جانب جئے سندھ فریڈم موومنٹ کی جانب سے سائیں ہدایت لوہار کے قتل پر 10 روزہ سوگ کا اعلان کیا گیاہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ جسفم کارکنان لواحقین کی جانب سے دیے گئے دھرنے میں پہنچ کر ان کا ساتھ دیں۔
چیئرمین جئے سندھ فریڈم موومنٹ جسفم سہیل ابڑو کی جانب سے کہا گیا ہے کہ دکھ کی اس گھڑی میں ہم لوہار خاندان اور قومی کارکنوں کے ساتھ ہیں۔
ان اک کہنا تھا کہ سندھ کی سیاست میں یہ بہت بڑا واقعہ ہے ہم اس قتل کو ریاستی قتل سمجھتے ہیں۔ سائیں جی ایم سید کے وفادار ساتھی اور سندھ کے بزرگ رہنما ہدایت اللہ لوہار کو دو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے گولیاں مار کر قتل کردیا۔
بیان میں کہا گیا کہ سائیں ہدایت اللہ لوہار کئی سال ٹارچر سیلوں میں اذیت سہتے رہے تھے۔ وہ وائس فار مسنگ پرسن کمیٹی کے چیئرمین، سورٹھ لوہار اور سسوئی لوہار کے والد ہیں۔ ہم ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس کمیشن اور اقوام متحدہ سمیت تمام بین الاقوامی اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس ہولناک واقعے کا نوٹس لیں۔