چمن : دھرنامظاہرین کا 7 فروری کو ایف سی قلعہ و سرکاری دفاتر کے راستے بند کرنیکا اعلان

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے افغانستان سے منسلک سرحدی علاقے چمن میں پاسپورٹ رجیم کے خلاف 115 دنوں سے جاری دھرنا مظاہرین نے 7 فروری کو ایف سی قلعہ اور سرکاری دفاتر کے راستے بند کرنے کا اعلان کیا ہے ۔

دھرنامظاہرین کے پرلت کمیٹی کے ترجمان صادق اچکزئی کا کہنا تھا کہ ہمارے احتجاجی مظاہروں کے باوجود مسئلہ برقرار ہے اور کوئی شنوائی نہیں ہوئی، لوگ دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں، ہم پر روزگار کے دروازے بند ہے اور خودکشیوں پر مجبور ہوگئے ہیں، ہمیں کوئی امداد نہیں چاہیے ہمیں اپنے چولہے جلانے کیلئے بارڈر پر اپنے روزگار کو اجازت دی جائے جو پاک افغان بارڈر سے منسلک ہے لیکن اس بے حس حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتا اور اب سخت احتجاج کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پرلت کمیٹی نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا ہے کہ 7 فروری کو خالی کنٹینرز سرکاری دفتروں کے سامنے رکھے جائیں گے جس میں ایف سی قلعہ، ڈی سی آفس سمیت دیگر اداروں کے دفتروں کے راستے بلاک کیے جائیں گے، ہم مجبور ہوگئے ہیں انتہائی تنگ دستی کی حالت میں یہ اقدام اٹھارہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کنٹینرز کو رکھنے کا تاریخ تو طے نہیں ہے لیکن اس کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ دوسری جانب بارڈر پر ٹریڈ تین ماہ سے بدستور معطل ہے، جس سے تاجروں اور قومی خزانے کو یومیہ ریونیو کی مد میں کروڑوں روپے کا نقصان ہورہا ہے ہم نے پشتونخوا میپ کے چیئرمین محمود خان اچکزئی کو بھی اختیار دیا ہے کہ دوسری کمیٹی تشکیل دی جائے یا جس طرح سے بارڈر کا مسئلہ حل کریں گے پرلت تیار ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment