امریکا کا فوجیوں و جہازوں پر حملوں کے خلاف جوابی کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے حمایت یافتہ عسکریت پسندوں کے خلاف مزید کارروائی کرے گا۔

یہ بات وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے اتوار کے روز کہی۔ تاہم انہوں نے ایران پر کسی براہ راست حملے کو خارج از امکان قرار دینے سے انکار کر دیا۔

سلیوان نے سی این این کے "اسٹیٹ آف دی یونین” شو میں کہا، صدر جو بائیڈن "وہ کریں گے جو ان کے خیال میں کرنے کی ضرورت ہے۔” سلیوان نے کہا کہ اگر آپ کو مشرقِ وسطیٰ میں تعینات امریکی فوجیوں پر یا بحیرہ احمر میں امریکی بحریہ کے جہازوں اور تجارتی بحری جہازوں پر مزید حملے نظر آتے ہیں ، تو آپ مزید جوابی کارروائیاں دیکھیں گے۔

سلیوان نے کہا کہ اس کے باوجود،امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں "ایک اسے وقت میں بھی کسی توسیع شدہ جنگ سے بچنے کی کوشش کرے گا،” جب امریکی اور برطانوی افواج ایرانی حمایت یافتہ عسکریت پسندوں کو دوبارہ نشانہ بنانے کے لیے اکھٹی ہیں۔

اس سے پہلے امریکہ اور برطانیہ نے ہفتے کو یمن میں حوثی باغیوں کے 36 ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ یہ حملے گزشتہ ہفتے اردن میں امریکی فوج کے اہلکاروں کی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد سے جاری ہیں۔

پینٹاگان کا کہنا تھا کہ دوسرے روز بھی جاری رہنے والے یہ حملے گوداموں، میزائل سسٹم، لانچرز اور دیگر اہداف ہر کیے گئے۔

بیان کے مطابق جن املاک کو نشانہ بنایا گیا حوثی باغی یہ نظام بحیرۂ احمر میں بحری جہازوں پر حملے کرنے کے لیے استعمال کر رہے تھے۔

پینٹاگان نے مزید بتایا کہ مجموعی طور پر 13 مقامات پر حملے کیے گئے ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment