بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں بلوچ نسل کشی و جبری گمشدگیوں کیخلاف بلوچ یکجہتی کمیٹی کی عظیم الشان جلسہ عام میں شرکت کیلئے بلوچستان و پاکستان بھر سے قافلے جلسہ گاہ میںپہنچنا شروع ہوگئے ہیں۔جلسہ گاہ لوگوں سے بھرنے لگا ہے اب سے تھوڑی دیر بعد جلسہ شروع ہوگا۔
ہزاراوں کی تعداد میں لوگ اب تک لوگ جلسہ گاہ میں پہنچ چکے ہیں جن میں لاپتہ افراد لواحقین کی ایک بڑی تعداد شامل ہے ۔
کراچی قافلے میں شامل ایک بس اسٹیڈیم پہنچ چکا ہے جب کہ باقی تین بس راستے پر ہیں۔ جبکہ تربت ، پنجگور،ڈیرہ غازی خان، تونسہ شریف ، دکی ،کوہلو، خضدار ، مستونگ ودیگر علاقوں کے قافلے پہنچنا شروع ہوگئے ہیں۔
جلسہ 12 بجے شاہوانی سٹیڈیم کوئٹہ منعقد ہوگا جسے مکمل طور پر پُر امن طور پر منعقد کیا جائے گا۔ قیادت کی طرف سے شرکاء کوسختی سے ہدایات کی گئی ہے کہ نظم وضبط کا خیال رکھ کرمکمل پرامن اور منظم رہیں ۔کسی سیاسی تنظیم کی پرچم نہ لہرائیں،کسی قسم کی کوئی اسلحہ نہ لے آئیں، شہر میں اور جلسہ گاہ کے گردونواح میں دیگر پارٹیوں کے پوسٹرز نہ پھاڑیں جائیں اور سیکورٹی فورسز کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔
بی وائی سی اپنے بیان میں جلسہ میں عوام اور کارکنوں کو یہ ہدایت بھی کی کہ وہ غیر ضروری نعروں سے مکمل طور پر گریز کریں اور اگر ضرورت پڑی تو سٹیج سے نعرے لگائے جائینگے اور ان کا جواب دیا جائیں، ورنہ دوسری صورت میں اپنے قائدین او باہر سے آنے والے مہمانوں کو انتہائی احترام ، سکون اوراطمینان کے ساتھ سنیں۔
واضع رہے کہ جلسہ کے موقع پر بلوچستان حکومت اورپاکستانی عسکری اسٹیبلشمنٹ نے عوامی قوت سے خوفزدہ ہوکر کوئٹہ میںدفعہ 144 نافذ کردی ہے ۔
بلوچ نسل کشی و جبری گمشدگیوں کیخلاف عظیم الشان قومی جلسے کا انعقاد پر عسکری اسٹیبلشمنٹ وحکومت مکمل طور پرخوف زدہ ہیں اور تھریٹ الرٹ کے نام سے عوامی قوت کو روکنے کی کی کوشش کی جارہی ہے۔
نگران وزیر اطلاعات بلوچستان جان اچکزئی نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ کوئٹہ میں اگلے دو ہفتوں کے لیے تھریٹ الرٹس کی وجہ سے کسی بھی عوامی اجتماع کی اجازت نہیں ہے۔
جان اچکزئی کا کہنا تھا کہ بلوچستان بھر میں اسلام آباد ہائیکورٹ کی ہدایت پر دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے۔ تمام متعلقہ اداروں کو عام لوگوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ انتخابی جلسوں سمیت کسی بھی اجتماع کے لیے کوئٹہ میں ڈی سی کا این او سی ہونا چاہیے۔امن و امان جی او بی کی اولین ترجیح ہے۔
واضع رہے کہ اسلام آباد میں تھریٹ الرٹ کے نام سے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے دھرنے کو ختم کرنے کی سازش رچھائی گئی اور تعلیمی ادارے بند کیے گیے۔جب دھرنا ختم کرنے کاا علان کیا گیا تو اسلام آباد پولیس سربراہ نے کہا کہ ہم نے کسی قسم کی کوئی تھریٹ الرٹ جاری نہیں کی ہے بس سوشل میڈیا پر افوا پھیلائی گئی تھی ۔