بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں کل بروز اتوار 27 جنوری کو منعقدہ عظیم الشان قومی جلسہ عام کے ضابطہ اخلاق جاری کردیے گیے جس کے تحت غیر ضروری نعروں ، سیاسی پارٹیوں کے پرچم اورہر قسم کی اسلحہ پر پابندی عائد کردی گئی ہے ۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اپنے آفیشل واٹس ایپ چینل پر جلسہ کے ضابطہ اخلاق جاری کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیر اہتمام ہفتہ 12 بجے شاہوانی سٹیڈیم کوئٹہ منعقد ہوگا جسے مکمل طور پر پُر امن طور پر منعقد کیا جائے گا۔جس کیلئے عوام اور کارکنوں پر بھاری زمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی قیادت کے درج ذیل ہدایات پر سختی سے عمل کریں ہے اور دوسروں کو بھی اس پر عمل کرنے کا کہیں۔ جلسہ کا انعقاد مکمل طور پر پرامن اور منظم ہوگا ۔
ضابطہ اخلاق تحت جلسہ گاہ میں سیاسی پارٹیوں کے جھنڈوں اور پرچموں کو لانے اور لہرانے پر سختی کے ساتھ پابندی عائد کی جاتی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ عوام اور کارکنوں کو یہ ہدایت بھی کی جاتی ہےکہ وہ غیر ضروری نعروں سے مکمل طور پر گریز کریں اور اگر ضرورت پڑی تو سٹیج سے نعرے لگائے جائینگے اور ان کا جواب دیا جائیں، ورنہ دوسری صورت میں اپنے قائدین او باہر سے آنے والے مہمانوں کو انتہائی احترام ، سکون اوراطمینان کے ساتھ سنیں۔
جاری ضابطہ اخلاق میں تمام لوگوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ بی وائی سی کے رضاکاروں کے ساتھ تعاون کریں۔ ایک دوسرے کے ساتھ نرمی اور اخلاق سے پیش آئے۔ سیکورٹی معلومات کی خاطر انتظامیہ اور پولیس سے مکمل تعاون کیا جائے، ان کے ساتھ بھی اخلاق کا مظاہرہ کیا جائے ۔ وقتاً فوقتاً قیادت اور رضا کاروں کی جانب سے جاری کی جانے والی ہر ہدایت پر سختی کے ساتھ عمل کیا جائے ۔
ضابطہ اخلاق میں کہا گیا کہ جلسہ گاہ میں اسلحہ لانا اور اس کی نمائش پر اور کوئی بھی آلہ، جو نقصان دہ ہے اور کسی تخریب کاری کے لئے استعمال ہوا اس کے لانے پر بھی پابندی عائد رہے گی۔جلسہ گاہ میں اگر آپ کو کوئی مشکوک فرد/ گروہ نظر آئے تو فوری طور پر بی وائی سی کے رضاکاروں اور پولیس کو مطلع کیا جائے۔جلسہ گاہ میں کسی بھی قسم کی چاکنگ کرنے یا مٹانے اور کسی بھی سیاسی پارٹی کا جھنڈا ہٹانے پر مکمل پابندی عائد کی جاتی ہے۔
ہدایت نامہ کے تحت سیکورٹی صورت حال کے پیش نظر واک تھروگیٹ اور مکمل چیکنگ کے لئے رضاکاروں کے ساتھ تعاون کیا جائے۔ بلوچ قوم کی یکجہتی اور بلوچ نسل کشی کے خاتمے کے لیے اس قومی جلسہ گاہ میں آپ کے تعاون کو قومی تعاون سمجھا جائے گا۔
بی اوئی سی اپنے ہدایت نامہ میں کہا ہے کہ گیٹ نمبر 1 جو قبرستان کی طرف سے ہے جس سے صرف خواتین جلسہ گاہ میں داخل ہوسکتے ہے اور گیٹ نمبر 2 جو ملک نور روڈ کی طرف سے ہے جہاں سے صرف مرد حضرات کو جلسہ گاہ میں داخل ہونے کی اجازت ہے۔