بلوچستان کے علاقے چمن میں افغان بارڈر پر ون ڈاکومنٹ پالیسی کے خلاف دھرنا کو 3 ماہ مکمل ہوگئے لیکن مطالبات حل نہ ہوئے ۔
آل پارٹیز تاجر لغڑی اتحاد کے ترجمان صادق اچکزئی نے بتایا کہ آج سے بارڈر شاہراہ پر قائم خیموں میں تادم مرگ بھوک ہڑتال شروع کریں گے جس کیلئے پہلے مرحلے میں 50 افراد نے اپنے نام رجسٹرڈ کروا دیئے ہیں۔
چمن میں باب دوستی کے سامنے دھرنے کے باعث بلوچستان افغان دو طرفہ بارڈر ٹریڈ بھی دو ماہ سے معطل ہے۔
چمن کے بعد گزشتہ 6 روز سے طورخم بارڈر پر بھی ڈرائیوروں سے پاسپورٹ ویزا پر ٹرانسپورٹ کے باعث ٹریڈ معطل ہے۔
بارڈر ٹریڈ سے منسلک 50 ہزار سے زائد افراد تین ماہ سے بے روزگار ہیںاور پاسپورٹ پالیسی سے چمن سے کراچی اور ملتان تک کاروباری سرگرمیاں متاثرہوئی ہیں ۔
کسٹم حکام کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان میں انگور اڈا سرحدی گزرگاہ 70 دنوں سے دوطرفہ ٹریڈ کے لئے بند ہے۔
شمالی وزیرستان میں غلام خان بارڈر سے پاسپورٹ پالیسی کی نفاذ میں31 جنوری تک توسیع کردی گئی ہے۔
کسٹم حکام نے بتایا کہ افغانستان کے ساتھ دو ماہ سے بلوچستان کے راستے بارڈر ٹریڈ ریونیو صفررہا ہے۔ سینٹرل ایشیا کو فریش فروٹ کے سیزن میں ایکسپورٹ سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے۔