افغانستان میں امن کی راہ میں کئی چیلنجز ومشکلات حائل ہیں، زلمے خلیل زاد

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

امریکا کے نمائندہ خصوصی برائے امن عمل زلمے خلیل زاد کا کہنا ہے کہ افغانستان میں حالیہ حملوں نے امن عمل سے متعلق سوالات کھڑے کر دیے ہیں لیکن چیلنجز کے باوجود ہم بہت محنت سے کام کر رہے ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ میں ویڈیو لنک کے ذریعے بریفنگ کے دوران زلمے خلیل زاد نے کہا کہ ‘امن کا راستہ سیدھا نہیں ہے اور اس کی راہ میں کئی چیلنجز اور مشکلات حائل ہیں، ہم یہ پہلے سے جانتے ہیں لیکن امن کی طرف بڑھنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے۔’

انہوں نے کہا کہ ‘افغانستان اور عالمی سطح پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ افغانستان کی جنگ کا کوئی فوجی حل نہیں ہے، اس کا حل سیاسی ہے اور موجودہ وقت میں افغانوں کے درمیان امن معاہدہ ہی اس کا حقیقی حل ہے۔’

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم امریکا کے کندھے سے بوجھ ہلکا کرنے کے لیے بھی سیاسی تصفیہ چاہتے ہیں اور اس بات کو بھی یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ افغانستان کی سرزمین کبھی بھی امریکا یا اس کے اتحادیوں پر حملے کے لیے استعمال نہ ہو، اس سلسلے میں امریکا اور طالبان کے درمیان معاہدے نے آگے بڑھنے کے لیے تاریخی موقع فراہم کیا ہے لیکن حالیہ حملوں نے امن عمل سے متعلق سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔’

زلمے خلیل زاد نے کہا کہ ‘چیلنجز کے باوجود ہم بہت محنت سے کام کر رہے ہیں، ہم نے تمام فریقین پر کشیدگی کم کرنے پر زور دیا ہے، ہم نے افغانوں پر زور دیا ہے کہ وہ آئیں اور اس تاریخی موقع سے فائدہ اٹھائیں، جبکہ صدر اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ پر زور دیا ہے کہ وہ مشترکہ حکومت کے لیے کسی سیاسی معاہدے پر پہنچیں۔

انہوں نے کہا کہ ‘افغان حکومت، طالبان کے ایک ہزار سے زائد اور طالبان، افغان حکومت کے 253 قیدیوں کو رہا کر چکے ہیں لیکن ہم نے ان پر مزید قیدیوں کی رہائی کے لیے زور دیا ہے، ہم جلد از جلد بین الافغان مذاکرات کا آغاز چاہتے ہیں کیونکہ یہی افغانوں کے درمیان دیرپا امن کا واحد راستہ ہے۔’

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ افغانستان سے امریکی فوج کا انخلا طالبان کی جانب سے انسداد دہشت گردی کے عزم پر کاربند رہنے پر منحصر ہے۔

افغانستان کے ہسپتال میں حالیہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے امریکی نمائندہ خصوصی نے کہا کہ ‘ہمارا ماننا ہے کہ ہسپتال اور جنازے پر حالیہ حملے داعش نے کیے جو امن کی دشمن ہے اس لیے ہم طالبان اور افغان حکومت پر زور دے رہے ہیں کہ وہ داعش کے خلاف ایک دوسرے کا ساتھ دیں۔’

Share This Article
Leave a Comment