بلوچستان بھر میں بلوچ نسل کشی و جبری گمشدگیوں کیخلاف جاری عوامی تحریک کو سبوتاژ کرنے کیلئے پاکستان کی عسکری اسٹیبلشمنٹ کی سربراہی میں ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت میں نقاپ پوش و مسلح افراد پر مشتمل ویگوکار ریلی نکالی گئی۔
ریلی میں شریک تما م ویگوکاروں کے شیشے کالے تھے اورسبھی بغیر نمبر پلیٹ کے تھے جوعموماًپاکستانی سیکورٹی فورسز کے خفیہ ادارے استعمال کرتے ہیں۔
واضع رہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے بلوچستان بھر میں کامیاب عوامی مظاہروں کو کائونٹر کرنے کیلئے ریاست کی جانب سے مظاہرین کیخلاف مقدمات کے اندراج سمیت مخالف ریلی و مظاہروں کا اہتمام بھی کیا جارہا ہے ۔
آج ہفتے کی صبح 11 بجے تربت میں سول سوسائٹی کیچ کے زیر اہتمام شھدائے بلوچستان کے نام سے کار ریلی نکالی گئی۔
ریلی مقصد اسلام آباد میں جمال رئیسانی کے سربراہی میں قائم کیمپ کی حمایت تھی۔
ریلی کی قیادت دلاور نامی ایک شخص کر رہے تھے جس کے متعلق کہا جارہا ہے کہ وہ ریاستی ڈیتھ اسکواڈز سے تعلق رکھتا ہے۔
کار ریلی میں شریک تمام تر افراد مسلح و ونقاب پوش تھے اور کالے شیشوں والے کاروں پر پاکستان کے پرچم لگائے گیے تھے ۔
کار ریلی کا آغاز مبارک قاضی چوک ایئر پورٹ روڈ سے کیا گیا جو تعلیمی چوک سے ہوتی ہوئی ڈپٹی کمشنر آفس تک پہنچی اور واپس ایئرپورٹ چوک پر پہنچ کر اختتام پزیر ہوگئی۔