ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی پریس کانفرنس ، بلوچ نسل کشی کیخلاف عالمی حمایت کی اپیل

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کیمپ سے پریس کانفرنس میں  بلوچ نسل کشی کیخلاف عالمی یکجہتی کی اپیل کردی ہے ۔

پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد میں بلوچ نسل کشی کیخلاف گذشتہ 48 دنوں سے جاری دھرنا تحریک کے قائد ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی اسلام آباد پریس کلب پہ قائم احتجاجی دھرنے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ وہ گزشتہ 48 دنوں سے 500 متاثرہ لواحقین، طلباء، سیاسی کارکنان اور میڈیا پرسنز کیساتھ بیٹھے ہیں اور انسانی حقوق کے علمبردار اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ آکر ہمارے کیمپ کو وزٹ کریں، یہاں لواحقین کی صحت و تحفظ کی حالت ملاحظہ فرمائیں، اور انکی کہانیاں ریکارڈ کرکے دنیا کو دکھا دیں۔

انہوں نے کہا کہ لاپتہ افراد کے لواحقین اپنے پیاروں کی بازیابی کیلئے سراپا احتجاج ہیں، دوسری جانب بلوچستان بھر سے مزید جبری گمشدگیاں کی جارہی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ کیچ کے علاقے دازن تمپ سے گزشتہ روز حسن آصف اور جاسم محمد بخش کو لاپتہ کیا گیا ہے جبکہ دوران مارچ 40 سے زائد افراد بلوچستان بھر سے لاپتہ کی گئی ہیں۔ ساتھ ہی لاپتہ افراد کیساتھ اظہار یکجہتی کرنے پر سیاسی کارکنان کے اوپر ایف آئی آر کاٹے جارہے ہیں۔ جبکہ آج تونسہ سے محمد اسلم بزدار اور رسول بخش بزداراورایچ آر سی پی کے رکن ذولفقار بلوچ 40 سے ازئد افراد کو بھی لاپتہ کردیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ منظور پشتیں کو بھی بلوچ یکجہتی کمیٹی کے دھرنے سے اظہار یکجہتی کرنے کی پاداش میں پابند سلاسل رکھا گیا ہے۔

انہوں نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ انکے دھرنے کے سامنے بلوچستان سے پروفیشنل قاتلوں کو لاکر بٹھایا گیا ہے جس سے کیمپ کے مظاہرین سمیت اسلام آباد کے لوگوں کی زندگیوں کو بھی خطرات لاحق ہیں۔

انہوں نے کہا یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے خضدار میں سینکڑوں افراد کو قتل کرکے اجتماعی طور پر درگور کیا جبکہ بلوچستان بھر میں یہ قتل و غارت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انکا دھرنا پرامن ہے اور انسانی حقوق کی تحفظ کیلئے قائم ہے، دنیا بھر سے انسانی حقوق کے علمبردار، صحافی اور ریسرچرز آکر ہماری حالت زار ملاحظہ فرمائیں۔

انہوں نے عالمی یکجہتی کی اپیل بھی کی ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران انھوں نے کہا کہ ریاست کی سنجیدگی کا اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ 48 دن سے یہاں بیٹھنے کے باوجود ہم سے کسی ریاستی نمائندے یا ترجمان نے آ کر بات نہیں کی۔‘

اُن کا مزید کہنا تھا کہ جبکہ بدھ کی صبح 8 بجے 40 سے زائد سیاسی کارکنان کو تونسہ شریف سے اٹھایا گیا۔ ہم لوگ ان کے لیے بہت پریشان ہیں کیونکہ یہ اپنے علاقے میں احتجاجی کیمپ سے یکجہتی کے لیے مارچ آرگنائز کروا رہے تھے جس کا انعقاد آج تونسہ شریف میں ہوا۔‘

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment