میجر نورا بلوچ کاسترو کے عکس میں – تحریر:۔ڈاکٹر نوکاپ بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
8 Min Read

تاریخ عجب گردشاں ہے۔ نہ سرحد دیکھتی ہے، نہ قوم،نہ نسل،نہ مال وزر بلکہ تاریخ کا منبع ہمیشہ کردار اور عمل ہوتا ہے۔تاریخ انسانی کی اگر زینت دیکھیں تو اسے چارچاند لگانے والے بھی عمل اور بلند کردار کے عامل افراد ہیں۔عظیم ہستیوں کے عمل و کردار میں ہم ہمیشہ ڈھلنے کی کوشش کرتے ہیں اور بسا اوقات آپ کے چہرے کی ساخت کی مشابہت بھی ان انسانوں کی طرح نظر آنے لگتا ہے جنہوں نے کار ہائے نمایاں سرانجام دیے۔

دنیا کے آٹھ ارب انسانوں میں بلکہ یہ تعداد کافی کم ہوگی اگر ہم ان افراد کو بھی شمار کریں جو آج اس دنیا سے کوچ کرچکے ہیں۔۔۔شکل و صورت میں مشابہت رکھنے والے انسانوں کو ہم دیکھ سکتے ہیں، یا جب کبھی کسی کا عکس نظروں کے سامنے گزرتا ہے تو اس میں ہم کسی اور انسان کی شبیہ دیکھتے ہیں۔۔۔یہ شکل و صورت کا اشتراک ہے یا کردار کا جو انہیں ایک ہی رنگ اور ایک ہی عکس میں پیوست کرتا ہے۔۔۔کہنا مشکل ہے۔۔۔ہاں شاید شکل و صورت کا بھی عمل دخل ہو اور کردار اور کارنامے بھی یا شاید دونوں کا ملاپ۔۔۔

ایک ہی شبیہ کے انسانوں کو ہم اگرچہ خال خال دیکھتے ہیں یا کسی ہستی کے حیات میں ہم یہ عکس دیکھنے سے قاصر رہتے ہیں لیکن عمل اور کرداربسا اوقات خدوخال اور چہرے کا ایک ہی رنگ لے کر نازل ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جب کسی موقع پر یا خاص واقع پر تاریخ ساز شخصیتوں کا تذکرہ ہوتا ہے تو تاریخ انھیں اپنے کردار و عمل کی بنیاد پر ایک زینے پر دکھاتا ہے۔ جب کسی موقع پر کامریڈ بھگت سنگھ کی تاریخ ساز عمل کی بات ہوتی تو اس تصویر کے ساتھ بلوچ رہنما ڈاکٹر اللہ نزر کی تصویر بھی شیئر کرتے ہوئے ہم دیکھتے ہیں۔ تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ڈاکٹر اللہ نزر اور بھگت سنگھ الگ نسل اور قوم سے تعلق رکھنے کے باوجود لوگ انھیں ایک عکس میں کیوں دیکھتے ہیں؟ اس ضمن میں تاریخ کا کھوج لگانے سے یہ جانکاری حاصل ہوتی ہے کہ ان دونوں ہستیوں نے اپنے قومی بقا اور تشخص کو بچانے اور آزادی کیلئے علم بغاوت بلند کرنے کی یکساں جہت کی۔بھگت اور ڈاکٹراللہ نذر کی طرح جب کہیں ڈاکٹر چی گورا اور شہید حمید بلوچ کا عکس نظروں سے گزرتا ہے تو ان دونوں میں ہم بڑی حد تک مشابہت دیکھتے ہیں اور بسا اوقات دھوکہ بھی کھا جاتے ہیں کہ یہ تصویر شہید حمید کی ہے یا ڈاکٹر چی کی۔تو وہاں تبصرہ اور بحث یہ نہیں ہو رہاہوتا ہے کہ چی گویرا ایک ڈاکٹر اور گوریلہ کمانڈر تھا اور شہید حمید بلوچ مکران کا ایک باعلم جہد کار، بلکہ تاریخ کا فرمان یہ ہے کہ ڈاکٹر چے نے انسانیت،انقلاب اور مظلوم اقوام کے حقوق اور آزادی کے لیے اپنی جان سمیت ہر چیز قربان کردی اور اسی طرح شہید حمید بلوچ اپنی جان نہ صرف اپنی قوم کے لیے قربان کیا بلکہ صفاری مظلوموں کی نسل کشی کے خلاف بھی انہوں نے اپنی قوم کو استعمال ہونے سے روکے رکھا جس کی پاداش میں انہیں مصلوب بھی ہونا پڑا پر وہ اپنے نظریے پہ آخر وقت تک قائم رہا جس طرح ڈاکٹر چی گویرا نے انسانیت کو سامراجی عزائم سے گلوخلاصی کے لیے جدوجہد کی جس میں اس کی اپنی جان چلی گئی پر وہ ثابت قدم رہا اسی لیے سارتر کہتا ہے کہ ”ڈاکٹر چی گویرا اپنے زمانے کا مکمل انسان تھا۔“

جب تاریخ نیلسن منڈیلا کو یاد کرتا ہے کہ اس نے اپنی قوم اور ان کے حقوق و آزادی کے لیے ستائیس سال تک قید وبند کا سامنا کیا ایک طویل جدوجہد اور کامیابی کے بعد نیلسن منڈیلا اس قوم کا رہنما منتخب ہوا تو آپ نے عدل اور انصاف کا ایک عظیم مثال قائم کیا اور دنیا کو پیغام پہنچایا کہ ہماری جدوجہد نا انصافی کے خلاف ہے نہ کہ انتقام جب آپ انتقال فرماتے ہیں تو پوری دنیا اس عظیم لیڈر کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے دیوانہ وار ساؤتھ افریقہ کا رخ کرتے ہیں۔ یہی کردار اور خاصیت بلوچ سرزمین میں جنم لینے والے ایک عظیم رہنما شہید غلام محمد بلوچ میں پایا جاتا ہے جو اپنی قومی ننگ ناموس، بقا اور آزادی کیلئے قید بند کی صوبتیں برداشت کرتے ہوئے تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ کے لئے اپنے نقوش چھوڑ جاتا ہے۔ الغرض بات ہورہی ہے باہمی مشابہت کی۔اس حوالے سے پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر شہید میجر نورا بلوچ اور کیوبا کے انقلابی رہنماء فیڈرل کاسترو کی ایک تصویر ایک ساتھ گردش کرتانظرآتا ہے۔ان دونوں عظیم ہستیوں یعنی میجر نورا اور فیڈرل کاسترو کے تصاویر میں جو مشابہت دیکھی جاسکتی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے بالکل اسی طرح جیسے شہید حمید بلوچ کی ایک تصویر میں ہم ڈاکٹر چی گویرا کا عکس دیکھتے ہیں۔نظروں کے سامنے گزرنے والی اس تصویر میں شہید نورا کی داڑھی، شہید نور ا کا زیب تن کیا ہوا لباس، سرپہ سجھی ٹوپی اور دوسری جانب فیڈرل کاسترو یہی شبیہ لے کر سامنے ہے ۔۔۔ایسی مشابہت کیا فقط رنگ کا ہے۔۔۔اگر رنگ تو کیوں۔۔۔کیوبا کاکاسترو تو نسلاً سپنیش جب کہ نورا کا خمیر دنیا کی قدیم تہذیب کے گہوارے سے اٹھایا گیا تھا تو یہ مشابہت آخر کیوں؟ ہاں شاید یہی اس سوال کا منطقی جواب ہو کہ کردار ہی انسان کو ایک ہی عکس میں ڈھالنے کا عملی کام کرتا ہے۔۔۔ جب انقلاب کیوبا کو پڑھتے ہیں تو فیڈرل کاسترو، ڈاکٹر چے کے ساتھ مل کر قابضین اور غاصبوں کے خلاف مسلح جدوجہد کا آغاز کرتا ہے۔تو میجر نورا بلوچ کا واقعہ بھی فیڈر کاسترو اور باقی دیگر تاریخ ساز کارنامے سر انجام دینے والوں سے مختلف نہیں ہے اگر کوئی چیز مختلف ہے تو وہ دشمن ہے میجر نورا کا جدوجہد اس صفاک دشمن کے خلاف ہے جو انسانیت، تہذیب سے عاری ہے عالمی جنگی قوانین سے مکمل نابلد ہے۔ یہ رنگ و مشابہت اپنی جگہ پر میجر نورا نے میدان کارزار سے جو آخری پیغام دنیا کو پہنچایا اس کی اپنی انفرادیت ہے جو اسے تاریخ کے صفحات میں عظیم مرتبے پہ رکھنے کا موجب بنے گا۔

Share This Article
Leave a Comment