پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری لاپتہ جان محمد کرد 9 سال بعد رہا ہوگئے۔
جان محمد بلوچ کوبلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ سے پاکستانی فورسزنے 9 سال قبل 25 جولائی 2015 سے جبری طور پرکیا تھا۔
بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف سرگرم تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ایکس پر جان محمد بلوچ کی رہائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ کے علاقے برمہ ہوٹل سے جبری گمشدگی کے شکار ہونے والے جان محمد کرد 9 سال کے بعد بازیاب ہوگئے ہیں ۔
نصراللہ بلوچ نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ دیگر لاپتہ افراد کی بازیابی کو یقینی بنایا جائے گا اور انکے غمزدہ خاندانوں کو زندگی بھر کی اذیت سے نجات دلائی جائے گی۔
وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے سیکرٹری جنرل سمی دین بلوچ نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ایکس پر اپنے ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ جان محمد بلوچ کی بوڑھی والدہ بیٹے کا دیدار کئے بغیراور جبری گمشدگی کا درد لے کر راہ تھکتے تھکتے اپریل 2020 کو اس دنیا سے رخصت ہوگئی۔