ہمیں اسلام آباد میں کٹہرے میں کھڑا کرکے ہم سے جرا کیا جارہا ہے،سمی دین

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچ وائس فار مسنگ پرسنز کے سیکر ٹری جنرل اور لاپتہ ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی صاحبزادی جو ان دنوں اسلام آباد میں موجود ہیں اور بلوچ نسل کشی کیخلاف جاری لانگ مارچ کی قیادت بھی کر رہی ہیں نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ایکس پر اپنے دو پوسٹ میں کہا ہے کہ ہم بلوچستان سے اپنی چونپڑیوں کو چھوڑ کر اسلام آباد کے شیشوں کے محلاور بڑی عمارتیں دیکھنے نہیں آئے ہیں ۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم اس امید کے ساتھ آئے تھے کہ ہمیں کوئی سنے یا نہ سنے مگر صحافی ہمیں ضرور سنیں گے مگر چند صحافیوں کو چھوڑ کر اکثریت ہم سے ایسے لہجے میں سولات کرتے ہیں جیسے ہم ریاستی پالیسی ساز ادروں سے تعلق رکھتے ہیں اور حالات کی خرابی امن امان کی صورتحال ہماری وجہ سے ہاتھ سے نکل چکی ہے ۔

https://twitter.com/SammiBaluch/status/1739350616713895945

سمی دین بلوچ نے کا کہنا تھا کہ ہم سے ایسے بات کی جاتی ہے جیسے ہم مجرم ہیں اور عدالتی کٹہرے میں ہمارا کوئی جرا کررہا ہے ہمیں آنکھیں دکھائی جاتی ہیں ہم تو اپنے سوالوں کا جواب مانگنے آئے تھے۔

واضع رہے کہ پاکستان کی عسکری اسٹیبلشمنٹ اسلام آباد میں پریس کلب کے سامنے دھرنا دیے بیٹھے پر امن بلوچ لانگ شرکاکی تحریک سے مکمل طور پر بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور اس دھرنے کو سبوتاژ کرنے کیلئے صحافت کے لبادے میں ملبوس فوجی اہلکاروں کو کیمپ بھیج کر دھرنا قائدین کو اشتعال دلانے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ وہ مشتعل ہوجائیں اور پھر انہیں یہاں سے ہٹانے کیلئے جواز مل سکے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment