بلوچ وائس فار مسنگ پرسنز کے سیکر ٹری جنرل اور لاپتہ ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی صاحبزادی جو ان دنوں اسلام آباد میں موجود ہیں اور بلوچ نسل کشی کیخلاف جاری لانگ مارچ کی قیادت بھی کر رہی ہیں نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ایکس پر اپنے دو پوسٹ میں کہا ہے کہ ہم بلوچستان سے اپنی چونپڑیوں کو چھوڑ کر اسلام آباد کے شیشوں کے محلاور بڑی عمارتیں دیکھنے نہیں آئے ہیں ۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم اس امید کے ساتھ آئے تھے کہ ہمیں کوئی سنے یا نہ سنے مگر صحافی ہمیں ضرور سنیں گے مگر چند صحافیوں کو چھوڑ کر اکثریت ہم سے ایسے لہجے میں سولات کرتے ہیں جیسے ہم ریاستی پالیسی ساز ادروں سے تعلق رکھتے ہیں اور حالات کی خرابی امن امان کی صورتحال ہماری وجہ سے ہاتھ سے نکل چکی ہے ۔
سمی دین بلوچ نے کا کہنا تھا کہ ہم سے ایسے بات کی جاتی ہے جیسے ہم مجرم ہیں اور عدالتی کٹہرے میں ہمارا کوئی جرا کررہا ہے ہمیں آنکھیں دکھائی جاتی ہیں ہم تو اپنے سوالوں کا جواب مانگنے آئے تھے۔
واضع رہے کہ پاکستان کی عسکری اسٹیبلشمنٹ اسلام آباد میں پریس کلب کے سامنے دھرنا دیے بیٹھے پر امن بلوچ لانگ شرکاکی تحریک سے مکمل طور پر بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور اس دھرنے کو سبوتاژ کرنے کیلئے صحافت کے لبادے میں ملبوس فوجی اہلکاروں کو کیمپ بھیج کر دھرنا قائدین کو اشتعال دلانے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ وہ مشتعل ہوجائیں اور پھر انہیں یہاں سے ہٹانے کیلئے جواز مل سکے۔