ڈیرہ غازی خان و تونسہ سے15 سے زائد نوجوان گرفتار،ان پر جعلی مقدمات بنائے گئے، بی وائی سی

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچ لانگ مارچ مظاہرین کی حمایت ومدداوراستقبال کرنے پر بلوچستان ، خیبر پختونخوا اور سندھ کے مختلف علاقوں میں درجنوں افراد کو گرفتار کرکے ان کیخلاف پولیس تھانوں میں جھوٹے مقدمات دائر کردیے گئے ہیں۔

ان علاقوں میں تربت ،کوہلو، ڈیرہ اسماعیل خان ، تونسہ ،ڈیرہ غازی خان ، قلات ، خضداراور کراچی شامل ہیں۔

جعلی مقدمات میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ ، سمی دین بلوچ ،گلزار دوست بلوچ، پاکستان قومی اسمبلی کے سابق رکن اور تحفظ پشتون موومنٹ کے رہنما علی وزیراوروہاب بلوچ کے ساتھ ساتھ دیگر لوگوں کےنام بھی شامل ہیں۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے مائیکر بلانگ ویب سائٹ ایکس پرڈیرہ غازی خان میں گرفتار 6 نوجوانوں کی ہتھکڑیاں لگیں ایک تصویر شیئر کی ہے ۔

اپنے پوسٹ میں بی وائی سی کا کہنا تھا کہ ڈیرہ غازی خان و تونسہ سے15 سے زائد نوجوانوں کو گرفتار کرکےان پر جعلی مقدمات بنائے گئے ہیںاوروہ مختلف تھانوں میں بند ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ یہ ظلم و جبر کبھی ہمیں پسپا نہیں کرے گی بلکہ مکران تا ڈی جی خان ہمیں مزید یکجا کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچ نسل کشی کے خلاف لانگ مارچ جہاں سے بھی گزرا ریاست نے سینکڑوں بلوچ نوجوانوں کو بے بنیاد ایف آئی آر کے ذریعے ہراساں کررہی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ ڈیرہ غازیخان سے پنجاب پولیس نے گدائی چنگی پر پرامن مظاہرین پر دھاوا بول کر لاٹھی چارج کیا اور 15 سے زائد نوجوانوں کو گرفتار کرکے مختلف تھانوں میں بند کرکے تشدد کا نشانہ بنا کر ان پر جعلی ایف آئی آر بنائے گئے۔

اس کے علاوہ ڈیرہ غازیخان اور تونسہ شریف سے پنجاب پولیس نے ابتک دس سے زائد جعلی ایف آئی آر لانگ مارچ کے استقبال کرنے والے نوجوانوں پر بنائے ہیں۔

بی وائی سی کا کہنا تھا کہ ہم ریاست کو پیغام دیتے ہیں کہ اسلام آباد اور ڈیرہ غازیخان سے گرفتار اور لاپتہ افراد کو جلد رہا کیا جائے اور جعلی ایف آئی آر واپس لیے جائیں ورنہ تحریک کو مزید وسعت دیں گے۔

Share This Article
Leave a Comment