سپریم کورٹ آف پاکستان نے پشاور ہائی کورٹ کو فوجی عدالتوں سے دہشت گردی کے الزام میں سزا یافتہ افراد کی اپیلوں پر ضمانت منظور کرنے سمیت کوئی بھی مختصر فیصلہ سنانے سے روک دیا۔
جسٹس مشیر عالم اور جسٹس قاضی محمد امین پر مشتمل سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے پشاور ہائی کورٹ کو ہدایت کی کہ وہ کیسز کے میرٹس پر کارروائی جاری رکھ سکتی ہے لیکن اسے کوئی حکم نہیں دینا چاہیئے۔
نومبر 2018 میں پشاور ہائی کورٹ نے فوجی عدالتوں سے سزا یافتہ افراد کی سزا کالعدم قرار دے دی تھی جس کے خلاف وفاقی حکومت نے 71 اپیلوں کے ذریعے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اب اس کیس کی کارروائی پیر کے روز ہوگی۔
اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے موقف اپنایا کہ پشاور ہائی کورٹ کے حکم نے ان خدشات میں اضافہ کیا کہ عدالت مجرمان کی عبوری ضمانت پر غور کررہی ہے۔
اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ’یہ عام مجرمان نہیں بلکہ دہشت گردی کے الزام میں فوجی عدالتوں سے سزا یافتہ ہیں، بہت سے لوگوں نے ان مجرمان کو سلاخوں کے پیچھے پہنچانے کے لیے اپنی زندگیاں قربان کی ہیں اور خدشہ ہے کہ ضمانت کی صورت میں اس میں توسیع کردی جاتی۔
اٹارنی جنرل کا یہ بھی کہنا تھا کہ پشاور ہائی کورٹ میں فوجی عدالتوں سے سزا یافتہ افراد کی 296 اپیلیں زیر التوا ہیں اور عدالت کے مختلف بینچز نے اس سلسلے میں مختلف نقطہ نظر اپنایا جبکہ وفاقی حکومت چاہتی ہے کہ اس صورتحال میں ہائی کورٹ ایک جیسی ہدایات پر عمل کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ حالانکہ عدالت نے کیس میں سزا یافتہ کو فریقین کو نوٹسز جاری کردیے ہیں لیکن دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ ہائی کورٹ کا دائرہ اختیار سپریم کورٹ میں زیر غور ہے چنانچہ اس صورتحال میں عدالت کی جانب سے کوئی حکم دینا سازگار نہیں۔
حکم لکھواتے ہوئے جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ انصاف کرنا ہائی کورٹ کا فرض ہے، اگر ہائی کورٹ میرٹ پر کیسز کا فیصلہ کرتی ہے تو عدالت عظمیٰ کو کوئی اعتراض نہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ سپریم کورٹ ایسی غلط مثال کی حوصلہ افزائی نہیں کرسکتی جس سے عدالت عظمیٰ پر ہائی کورٹ کے خلاف ہر دوسرے کیس میں حکم امتناع کے حصول کے لیے درخواستوں کا بوجھ بڑھے۔
جس پر اٹارنی جنرل نے خیبرپختونخوا ورکرز ویلفیئر بورڈ کیس میں سپریم کورٹ کی جانب سے ہائی کورٹ کو اس وقت تک معاملے کی کارروائی سے روکنے کا حوالہ دیا جب تک عدالت عظمیٰ دائر درخواست کا فیصلہ نہ ہوجائے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں سے سزا یافتگان کے کیسز میں وفاقی حکومت کو جزوی طور پر سنا ہے۔
جسٹس امین احمد کا کہنا تھا کہ انصاف کرنا ہائی کورٹ کی آئینی ذمہ داری ہے اور سپریم کورٹ انہیں حتمی فیصلے دینے سے نہیں روک سکتی۔
خیال رہے کہ نومبر 2018 میں پشاور ہائی کورٹ نے ایک حکم کے ذریعے فوجی عدالتوں سے دہشت گردی کے الزام میں سزاو¿ں کو بدنیتی پر مبنی اور غلط قرار دے دیا تھا۔
قبل ازیں سپریم کورٹ نے متعلقہ جیل سپرنٹنڈنٹ کو مختلف سزاو¿ں کا سامنا کرنے والے مجمرمان کی رہائی روکنے کی ہدایت دیتے کے ساتھ ہائی کورٹ کو روک دیا تھا۔
ہائیکورٹ نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو تمام مجرموں اور نظربند افراد کو رہا کرنے کا بھی حکم دیا تھا اور مزید کہا تھا کہ ان کی غیر معینہ مدت تک نظربندی بشمول انٹیلی جنس ایجنسیوں کی تحویل میں رکھے جانے کو سزا کے مقصد کے لیے کسی طور پر بھی سراہا نہیں گیا تھا۔
173 صفحات پر مشتمل فیصلے میں ہائی کورٹ نے مجرمان کے اعترافی بیانات میں نقائص سامنے آنے پر انہیں مسترد کردیا تھا اور سوال کیا تھا کہ کیا ا?ئین کی دفعہ 10(اے) کے تحت مجرمان کو فیئر ٹرائل کا حق دیا گیا یا نہیں۔
بینچ نے یہ بھی کہا تھا کہ اعترافی بیانات کا تمام تر عدالتی ریکارڈ اردو میں ہے اور ’ایک ہی لکھائی اور مخصوص طرز بیان‘ پر مشتمل ہے۔
عدالت نے اس پر بھی سوال اٹھائے تھے کہ تمام کیسز میں تمام ملزمان سے پوچھے گئے سوال بالکل ایک جیسے اور اس کے جوابات بھی یکساں تھے حتیٰ کہ نجی وکیل کو شامل کرنے کا مقصد اور فارمیٹ بھی ایک ہی جیسا ہے۔
پشاور ہائی کورٹ بینچ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ اس کا مطلب ہے کہ تینوں عدالتوں میں ہونے والی کارروائی ’منصوبہ بندی‘ سے کی گئی تھی۔
بینچ نے مزید کہا تھا کہ ہر ایک کیس کے مکمل ریکارڈ کے مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ استغاثہ کی تیار کردہ کسی رپورٹ میں کبھی بھی مجرمان کا نام شامل نہیں کیا گیا نہ انہیں کہیں نامزد کیا گیا۔