بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ دنوں اسلام آباد میں داخل ہونے والے پر امن مظاہرین کو تشدد کا نشانہ بنانے اور انہیں گرفتار کرنے کے بعد تاحال انہیں زدوکوب کرنے اور ان کے علاوہ اسلام آباد کے تعلیمی اداروں و نجی ہاسٹلز پر چھاپے مار کر وہاں رہائش پذیر طلبہ کو گرفتار و ہراساں کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پر امن احتجاج سے خوفزدہ ریاست بوکھلاہٹ کو شکار ہے، احتجاجی مظاہرین تو دور کی بات ہاسٹلز میں رہائش پذیر عام بلوچ طلبہ کو بھی ان کے قومی شناخت کے بنیاد ہراساں کرنا فاشسٹ ہونے کی نشانی ہے۔ عدالتی احکامات کے باوجود کچھ مظاہرین تاحال گرفتار ہیں، حکومتی دعووں کے برعکس ہمارے اطلاعات کے مطابق متعدد طلبہ لاپتہ و کئی کو اٹک جیل سمیت وہاں کے جیلوں میں منتقل کیا جارہا ہے۔بی ایس او کے گرفتار طلبہ و مظاہرین کے جانوں کے حوالے سے خدشات لاحق ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اسلام آباد پولیس و دیگر ریاستی ادارے پر امن مظاہرین و بلوچ طلبہ کو ہراساں کرنا بند کریں اور تمام بلوچ اسیران کو فی الفور رہا کرے بصورتِ دیگر بلوچستان میں پہلے سے جاری احتجاجی لہر میں تیزی لائی جائے گی۔