اسلام آباد سے 14 بلوچ طالب علم فورسز ہاتھوں جبری طور پر لاپتہ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد میں فورسز وخفیہ اداروں نے 14 بلوچ طالب علموں کو جبری طور پر لاپتہ کیا ہے ۔

آج علی الصبح بلوچ لانگ مارچ شرکا اوراسلام آباد کے نیشنل پریس کلب کے سامنے منعقدہ بلوچ لاپتہ افراد لواحقین کی کیمپ پر پولیس ودیگر فورسز و خفیہ اداروں نے کریک ڈائون کرکے خواتین و بچوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اوریخ بستہ سردی میں واٹر کینن سے پانی نہتے مظاہرین پر پانی پھینک کر 300 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں خواتین وبچے ،جوان وبزرگ اور طالب علم شامل تھے ۔

آج اسلام آباد ہائیکورٹ نے گرفتار کئے گئے ان تمام افراد کو رہا کرنے کا حکم دیا ہے لیکن 14 طالب علم تاحال لاپتہ ہیں اوران کے بارے میں کچھ معلوم نہیں کہ وہ کہاں ہے ۔

اس سلسلے میں بلوچ یکجہتی کمیٹی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بلوچ مظاہرین کی وکیل و انسانی حقو ق کے سرگرم کارکن ایمان مزاری کی ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ گرفتار بلوچ طلبا کو آج کورٹ میں پیش کرنے کی جگہ، مختلف جیلوں میں شفٹ کیا جا رہا ہے۔ جبکہ 14 کے قریب ایسے طالب علم، جنہیں پولیس نے گرفتار کیا تھا، ابھی تک ان کے لوکیشن کے بارے میں کچھ معلوم نہیں پڑ رہا، جنہیں نا معلوم جگہوں پر پولیس نے شفٹ کیا ہے اور ہمیں خدشہ ہے کہ ان کو اسلام آباد پولیس کی جانب سے نقصان پہنچایا جا ئے گا۔

ویڈیو میں وکیل ایمان مزاری نے ایک فہرست جاری ہے جس میں لاپتہ کئے گئے 14 طالب علموں کی شناخت نور خان ( نمل یونیورسٹی )شکیل حمل (اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی)حمل الطاف ( نمل یونیورسٹی ) شاہداد(قائد اعظم یونیورسٹی)عزیز ( نمل یونیورسٹی )فہیم (ایرڈ یونیورسٹی) شاہسوار(ایرڈ یونیورسٹی) سلمان داد(ایرڈڈ یونیورسٹی)عامر خان ( نمل یونیورسٹی )ارشد (قائد اعظم یونیورسٹی)بیبگر(پنجاب یونیورسٹی)نعمان (پنجاب یونیورسٹی)قاسم (قائد اعظم یونیورسٹی)زہیر (قائد اعظم یونیورسٹی) کے نامو سے ہوگئی ہے ۔

ایمان مزاری کے مطابق ان 14 کیسزکے حوالے سے ہمیں کسی قسم کی کوئی معلومات نہیں ہیں ۔ہمیں خدشہ ہے ان کے ساتھ کچھ براہوگا۔

Share This Article
Leave a Comment