پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد میں بلوچ نسل کشی و جبری گمشدگیوں کیخلاف جاری لانگ شرکا پر پولیس کی تشدد و 300سے زائدافرادکی گرفتاری وگمشدگیوں کیخلاف بلوچستان بھر میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے ۔
ا س سلسلے میں بلوچستان کے علاقے بارکھان اور کراچی کے بلوچ علاقے ملیر میں احتجاج جاری ہے ۔
اسلام آباد میں لانگ مارچ شرکاکی گرفتاری بلوچ یکجہتی کمیٹی وڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے بلوچستان عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ باہر نکلیں اور ریاستی دہشت گردی کیخلاف احتجاج کریں ۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کی کال پر بلوچستان بھر میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے اور لوگ سڑکوں پر نکل رہے ہیں۔
بارکھان کے علاقے رکنی میں عوام نے اسلام آباد میں ریاستی دہشتگردی کے خلاف پنجاب ٹو بلوچستان کا مرکزی شاہراہ پر ٹائربندجلا کر ہر طرح کی آمدو رفت کیلئے بند کر دیا ہے۔
دوسری جانب خاران میں بھی لوگ بڑی تعداد میں روڈ پر نکل گئے ہیں اور احتجاج کر رہے ہیں جن میں خواتین و بچے بھی شامل ہیں۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان کے تمام شاہرائیں بند کر دی جائیں گی جبکہ آج سے بلوچستان بھر میں ریاستی دہشتگردی اور بلوچ نسل کشی کے خلاف بلوچستان میں تحریک شروع ہو جائے گی۔
بیان میں کہا گیا کہ ریاست یاد رکھیں انہوں نے صرف چند افراد پر تشدد نہیں کیا ہے بلکہ انہوں نے بلوچ قوم کے خلاف اعلان جنگ کر دیا ہے۔ بلوچ ماؤں اور بہنوں پر حملے کرکے ریاست نے بلوچ قوم پر واضح کر دیا ہے کہ بلوچستان کو ریاست اپنی کالونی سمجھتی ہے اور یہاں کے لوگوں کو انسان تصور نہیں کرتا۔
دوسری جانب سندھ میں کراچی کےبلوچ علاقے کاٹھور ملیر میں اسلام آباد کی پولیس کی دہشتگردی کے خلاف لاپتہ افراد کے حق میں احتجاج ریلی نکالی گئی اور مظاہرہ کیا گیا۔