اسلام آباد میں لانگ شرکا کی گرفتاری کیخلاف بلوچستان بھرمیں احتجاج کا سلسلہ شروع

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد میں بلوچ نسل کشی و جبری گمشدگیوں کیخلاف جاری لانگ شرکا پر پولیس کی تشدد و 300سے زائدافرادکی گرفتاری وگمشدگیوں کیخلاف بلوچستان بھر میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے ۔

ا س سلسلے میں بلوچستان کے علاقے بارکھان اور کراچی کے بلوچ علاقے ملیر میں احتجاج جاری ہے ۔

اسلام آباد میں لانگ مارچ شرکاکی گرفتاری بلوچ یکجہتی کمیٹی وڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے بلوچستان عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ باہر نکلیں اور ریاستی دہشت گردی کیخلاف احتجاج کریں ۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی کی کال پر بلوچستان بھر میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے اور لوگ سڑکوں پر نکل رہے ہیں۔

https://twitter.com/BYCKech/status/1737731011457462394

بارکھان کے علاقے رکنی میں عوام نے اسلام آباد میں ریاستی دہشتگردی کے خلاف پنجاب ٹو بلوچستان کا مرکزی شاہراہ پر ٹائربندجلا کر ہر طرح کی آمدو رفت کیلئے بند کر دیا ہے۔

دوسری جانب خاران میں بھی لوگ بڑی تعداد میں روڈ پر نکل گئے ہیں اور احتجاج کر رہے ہیں جن میں خواتین و بچے بھی شامل ہیں۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان کے تمام شاہرائیں بند کر دی جائیں گی جبکہ آج سے بلوچستان بھر میں ریاستی دہشتگردی اور بلوچ نسل کشی کے خلاف بلوچستان میں تحریک شروع ہو جائے گی۔

https://twitter.com/Ibraralikalmati/status/1737729642457407638

بیان میں کہا گیا کہ ریاست یاد رکھیں انہوں نے صرف چند افراد پر تشدد نہیں کیا ہے بلکہ انہوں نے بلوچ قوم کے خلاف اعلان جنگ کر دیا ہے۔ بلوچ ماؤں اور بہنوں پر حملے کرکے ریاست نے بلوچ قوم پر واضح کر دیا ہے کہ بلوچستان کو ریاست اپنی کالونی سمجھتی ہے اور یہاں کے لوگوں کو انسان تصور نہیں کرتا۔

https://twitter.com/safarkhanb/status/1737733471911456892

دوسری جانب سندھ میں کراچی کےبلوچ علاقے کاٹھور ملیر میں اسلام آباد کی پولیس کی دہشتگردی کے خلاف لاپتہ افراد کے حق میں احتجاج ریلی نکالی گئی اور مظاہرہ کیا گیا۔

Share This Article
Leave a Comment