بلوچستان کی سرزمین ایسے انسان ہر وقت پیدا کرتی رہی ہے جو شعور اور زانت کی اْس سطح کو چھولی ہے جہاں سے شعور انسان کو سماجی تحفظ کیلئے مجبور کی ہے جن میں یو سف عزیز مگسی،غلام محمد،خیر بخش مری اور ڈاکٹر منان جان جیسے جہنوں نے اپنی کردار سے تاریخ رقم کی ہے۔
اس وقت دنیا کی حالات جو تیزی کء ساتھ بدل رہی ہیں اور دوسری طرف اکثر غلام معاشرے میں نفسانفسی، افراتفری، بیحسی،بے بسی پا یا جاتا ہے کیونکہ وہ غلامی کی حالت میں وقت گزر رہے ہیں ایسے میں ایک رہبر ایک بڑی منزل کی آواز لگاتا ہے لوگ اس آواز اور مقصد پر لبیک کہکر جوک درجوک شامل ہوجاتے ہیں اس کے بعد ایک علمی انقلابی کاروان بنتی ہیجو سماج میں تبدیلی کا ضامن بن جاتا ہے جب ہر سیاسی کا رکن میں انقلا بی شعور پید ا ہو جائے تو احساس کا پیما نہ بھی بلند پا یا جا تاہے دشمن کی ظلم وستم نا انصافی کے لوگوں میں شعور پیدا کرنے میں ایک اہم مقام حاصل کرتے ہیں جب تحریک جنم لیتے تحریک کسی بھی شکل میں ہو ں وہ انقلابی تبدیلی ہوں یا سماجی ترقی ہوں اس میں رہبر کا فی اہم مانا جاتاہے وہ کسی حالات میں ایک رہبر کی حیثیت سے اس کاروان کو لے کر اس پرکھٹن مشکلات اور مختلف تکالیف سے مزین اس سفر پر چل پڑتا ہیاور کامیابی ایمان کی حد ہوتاہے ایسے لوگ حالات کو کسی بھی طرح اْس کی روخ کو تبدیل کرتی ہے بلوچستان کے مزن نامے وہ شخص ڈاکٹر منان جان ہی تھا غلامی کے چکی میں پسنے والے لوگوں میں شعور اور زانت کی بدولت محنت کے سہارا لے کر کہیں حد تک کامیاب رہے ہیں
وہ رہبر اپنے ساتھ سفر کرنے والوں کو عقل، دلیل، شعور راست بازی، ایمانداری، نیک نیتی، اور علم وزانت کے بنیاد پر چیزوں کو پرکھنے اور قوت فیصلے کا درس دیتا رہتا ہیاس میں وہ کامیاب رہے ہیں کیونکہ اْس کے فلسفہ کو ہر کوئی بہت جلدی سمجھتا تھایہ رہبر اس کاروان اور اپنے ساتھ شامل اور سفر کرنے والوں کے ہاتھ میں اس عظیم کاروان اور اس شاندار مقصد پر محو سفر کرنے والے جانبازوں اور جہدکاروں کو منزل کی کامیابی کا مشعل تما کر اپنے منزل مقصود کی جانب نیک ارادوں اور تمناؤں کے ساتھ سفر کو جاری رکھتے ہوئے شامل ہوجاتا ہے،ہر انقلا بی کارکن اپنی مقصد کو ایما ن سمجھتے تھے جب ایسے رہبر سے جب ملاقات کرتے کیونکہ وہ سمجھتے تھے اْسے کیا کرنے چاہئے اْس کی مقصد کیا ہے جب مقصدکے بارے میں لوگوں کو درس دیتے ایسے محسوس ہوتا ہے کوئی انکو روحانی طور پر علاج کررہی ہیلیکن اس سفر اور کاروان کو منزل مقصود تک جاری رہنے کا درس دینے عظیم رہبر شہید ڈاکٹر منان جان جسمانی طور پر مو جود نہیں لیکن انقلابی سفر یہ کاروان یہ منزل یہ قربانیوں کا سلسلہ آب و تاب کے ساتھ جاری ہے اور کسی کو کوئی تکلیف ہو تا ہے تو اْس کے دیے ہو ئے فلسفہ کو پھر سے پڑھتا اور اپنی روحانی تازگی لیتا ہے تو پہلے سے زیادہ جد وجہد میں پیش پیش رہتا لیکن اس سفر کو پائدار اور کامیاب بنانے کے لیے آپ کے درس و تعلیمات سفر اور کاروان کی رہبری کرتے رہین گیجب تک بلوچ اپنی ا?زادی حاصل نہیں کرتا اْس وقت ا?پ کی ہر بات سیاسی کا رکنوں کیلئے انقلابی درس ہو گا اور ہماری رہنما ئی ہو تی رہی گی۔
منان جان کے ساتھ سفر کرنے والے خوش نصیب لوگ اور جہدکار ہیں جنھیں منان جان کے ساتھ سفر کرنے اور آپ کے مہر محبت پیار و شفقت سے موقع ملاانکی دی ہو ئی تعلیمات سے سبق لے رہے انقلا ب کو کامیابی سے ہمکنار کرنا چاہتے ہوں تو خود کو نفی کر یں تو کامیاب اْسی کی ہوگی۔
جب تک ڈاکٹر منان جان کی انقلا بی تعلیمات ہیں وہ امر ہیاْس کی دیے ہو ئے سبق میں راہ نجات ک ہے اسی راہ پر گامزن رہے کامیاب رہو گے
ڈاکٹر منان جان ہر مخلص کارکن میں زندہ ہیں ڈاکٹر امر ہیں۔
ڈاکٹر منان جان ایک عظیم رہبر …… ڈاکٹر نوکاپ بلوچ
Leave a Comment
Leave a Comment