کوئٹہ میں دھرنا جاری ، اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان

ایڈمن
ایڈمن
8 Min Read

پاکستانی فورسز کے ہاتھوںجبری گمشدگیوں اورحراستی قتل کیخلاف بلوچ لاپتہ افراد لواحقین کا کوئٹہ میں گذشتہ تین دنوں سے جاری دھرنا اب اسلام آباد منتقل کرنیکااعلان کردیا گیاہے ۔

کل جمعرات کو کوئٹہ بھر میں شٹرڈائون ہڑتال اور دھرنے کے مقام پر سیمینار منعقد کرنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے ۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی کے بینر تلے بلوچ لاپتہ افراد لوحقین کی تربت سے آئے ہوئے لانگ مارچ شرکاء کادھرنا سریاب مِل تیسرے روز بھی جاری ہے۔

بدھ کی شام کوئٹہ سریاب مل میں جاری دھرناگاہ میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ گذشتہ 21 دن سے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے جاری تحریک تین دن پہلے کوئٹہ پہنچ چکی ہے اور تین دنوں سے دھرنا دیا جارہا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں جاری ریاستی جبر، دہشت اور ناانصافیوں کیخلاف اٹھنے والی تحریک کو دبانے کیلئے ریاست نے تما م ذرائع استعمال کئے ۔شہید بالاچ بلوچ کی بہن کو حبس بے جامیں رکھنا یا لانگ مارچ کو شرکا کو ڈرانا دھمکانا اور تشددکے باوجود شہید بالاچ ، شہید شعیب ودرجنوں لاپتہ افراد کے لواحقین انصاف کے حصول کیلئے لانگ مارچ کی صورت میں تربت سے نکلے تو انہیں ہر طر ح سے روکنے کی کوشش کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ نال سے لیکر کوئٹہ تک تقریبا ً دس سےزائد مرتبہ سی ٹی ڈی ، پولیس ، ایف سی سمیت ڈیتھ اسکواڈ اہلکاروں کو تعینات کر مارچ کو روکنے کی کوشش کی گئی ۔لیکن ان تمام ریاستی فورسز کے رکاوٹوں کوعبور کرتے ہوئے مارچ آگے بڑھی توشرکا ءکو شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔جس کا مقصد بنیادی طور پر مظاہرین کو تشدد پر اکسانا تھا تاکہ بلوچستان بھر میں لوگوں میں اشتعال پیداکرکے ایک جنگ زدہ ماحول پید اہو اورکریک ڈائون کا جواز پیداکیاجاسکے۔ لیکن اس پورے 21 دن کی تحریک میں مظاہرین مکمل طور پر پر امن رہے اور اپنی سیاسی جدو جہد جاری رکھی ۔

ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ بلوچستان میں جاری ناانصافیوں ،بربریت اور انسانیت سوز واقعات گھنے چنے نہیں ہیں۔بلکہ بالاچ کے تین ساتھیوں کے واقعات کے ایک ہفتےکے دوران 10 زیر حراست قیدیوں کو شہید کیا گیاجس میں خضدار میں ایک جعلی مقابلے میں تین افراد کو شہید کیا گیا جبکہ بالگتر میں تین زیر حراست افراد کو بارودی مواد سے اڑاکر شہید کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ریاست نے حالیہ دنوں مارو اور پھینکو کی پالیسی کو فیک انکائونٹر کی شکل میں تبدیل کرکے جو پالیسی بنائی ہے اس کا مقصد بلوچستان میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا کرنا ہے تاکہ لوگ گھروں میں محصور ہوکر ریاست کی ہر جبر اور وحشت کو خاموشی سے برداشت کرے۔اس سلسلے میں اب تک سینکڑوں افراد کو سی ٹی ڈی کے نام پرقتل کیا گیا ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں سی ٹی ڈی کو ایف سی کی ذمہ داریاں دی گئی ہیں۔جو کام فوج پہلے ایف سی کے ذریعے کرواتاتھا اب وہ سی ٹی ڈی کے ذریعے یہ سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔بلوچستان میں ہر دوسرے دن کسی کی جبری گمشدگی کیخلاف قومی موومنٹ کی شکل میں بلوچ قوم جو ردعمل ریاست کیخلاف دے رہی ہے وہ اصل میں ریاستی تشدد، جبر اور ناانصافیوں کے خلاف عوام میں موجود غم و غصہ ہے۔ بلوچستان میں ہر علاقے سے ہزاروں لوگوں نے نکل کر ریاست پر واضح کردیا ہے کہ وہ اب مزید کسی جبر کا سامنا نہیں کرینگے بلکہ مزاحمت کا راستہ اختیار کرینگے۔

ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے کہا کہ ہمارے بنیادی مطالبات جو ہم یہاں پر واپس دہراتے ہیں کہ سی ٹی ڈی کو بلوچستان میں فیک انکائونٹرز، غیرقانونی چھاپے و قتل و غارت گری کیلئے فعال کیا گیا ہے اس لیے سی ٹی ڈی کو غیر فعال کیا جائے یا اسے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے کہ وہ اپنی نسل کشی کی پالیسیاں بدل دیں جبکہ ڈیتھ اسکواڈز جو اس وقت بلوچستان بھر میں فعال ہیں انہیں غیر فعال کیا جائے جبکہ بالاچ، شعیب، ودودا، سیف و شکور کی موت میں ملوث تمام کرداروں کو سزا دی جائے اور تمام لاپتہ افراد جو اس وقت ریاست کے زیر حراست قید ہیں ان کے حوالے سے ریاست باضابطہ طور پر واضح کریں کہ وہ کہاں ہیں، یا انہیں منظر عام پر لایا جائے یا چھوڑ دیا جائے جبکہ اب تک سی ٹی ڈی نے جتنے بے گناہ افراد کو فیک انکاؤنٹر میں قتل کیا ہے ان کا اعتراف کرے اور مزید کسی بھی لاپتہ بلوچ کو فیک انکائونٹر میں قتل نہ کرنے کی یقین دہانی کرائے۔

انہوں نے کہا کہ ہم پہلے دن سے صاف اور مطالبات کے ساتھ یہ تحریک چلا رہے ہیں لیکن جہاں حکومتی ترجمان مسلسل بالاچ کو تخریب کار قرار دے کر عام بلوچ کے دل میں مزید نفرت پیدا کر رہے ہیں وہیں دوسری جانب اپنے نام نہاد کمیٹی کا بھی ذکر کرتے ہیں کہ وہ کیس کے حقائق جاننے کیلئے بنایا گیا ہے۔ اس سے ان کی دوغلا پالیسی واضح ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان حکومت کی غیر ذمہ دارانہ بیانات، پرامن لانگ مارچ کیخلاف ریاستی تشدد و غیر سنجیدگی کو مدنظر رکھ کر اب یہ لانگ مارچ جلد از جلد شال سے اسلام آباد کی طرف جائے گی اور وفاق و ریاستی اداروں سے ڈائریکٹ ان ناانصافیوں کے حوالے سے اپنے مطالبات سامنے رکھے گی۔ لانگ مارچ کے مستقبل کے پڑائواور مقامات کے حوالے سے حوالے سے میڈیا و قوم کو جلد از جلد آگاہ کیا جائے گا۔ جبکہ کل شال دھرنے گاہ سے 2 بجے ایک سیمینار کا انقعاد کیا جائے گا اور کل کوئٹہ بھر میں شٹر ڈائون ہڑتال رہے گی جبکہ عوام سے مزید دھرنے میں شرکت کرنے کی اپیل کرتے ہیں۔

واضع رہے کہ سریاب میں جاری دھرنے میں  لاپتہ افراد کیلئے رجسٹریشن ڈیسک بھی قائم کیا گیا ہے جو ان لاپتہ افراد کا اندراج کیا جارہا ہے جن کی فیملیز نے خوف کے باعث پہلے ان کی گمشدگی وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز ، مقامی تھانوں ، میڈیا اور انسانی حقو ق تنظیموں میں رجسٹرڈ نہیں کئے تھے۔

لانگ مارچ سے قبل 23 نومبر کو بالاچ مولابخش کی ماورائے عدالت قتل کے نتیجے میں تربت میں مظاہروں کا آغاز ہوا تھا۔ 14 روز تربت میں دھرنا دینے کے بعد لانگ مارچ کی صورت لاپتہ افراد کے لواحقین بالاچ مولابخش کے ورثاء سمیت کوئٹہ پہنچا۔

Share This Article
Leave a Comment