بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی کال پر تربت میں سی ٹی ڈی کے جعلی انکائونٹر میںبلوچ نوجوانوں کے قتل کے خلاف جاری دھرنے کی حمایت اور بلوچستان میں جاری جبری گمشدگیوں، فوجی آپریشن کیخلاف طلبا نے سریاب روڈ پر بلوچستان یونیورسٹی چوک کو بلاک کرکے دھرنا دیدیا ۔
دھرنے کے نتیجے میںروڈ ہر طرح کی ٹریفک کیلئے مکمل بند ہوگیا۔
بی این پی کے مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن و ضلعی آرگنائزر غلام نبی مری کی بی ایس او دھرنے میں شرکت کی اوربالاچ مولا بخش کے ورثا کو انصاف دینے کا مطالبہ کیا۔
طلبامظاہرین نے بالاچ مولا بخش کے ورثا کے مطالبات کے حق میں نعرہ لگا ئے۔
مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ جعلی مقابلوں کے نام پر بلوچ لاپتہ افراد کا قتل عام بند کیا جائے اورانسانی حقوق تنظیمیں ریاستی اداروں کی اس طرح کی غیر انسانی اور نسل کش کارراوئیاں کا سختی سے نوٹس لیں تاکہ مزید زندگیاں بچائی جاسکیں۔
بی ایس اوچئیرمین بالاچ قادر مرکزی کابینہ و دیگر تنظیمی اراکین کے ساتھ آج 27 نومبر صبح 11 بجے جاری دھرنے میں شامل ہونے کیلئے تربت پہنچے جہاں وہ شہید فدا چوک میں جاری دھرنے میں شرکت کریں گے۔