بلوچ لاپتہ افراد کے ماورائے عدالت قتل کیخلاف کوئٹہ میں بھی احتجاجی ریلی نکالی گئی ۔
بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پجار کے زیر اہتمام احتجاجی ریلی پولی ٹیکنیک کالج سے نکالی گئی جو بلوچستان یونیورسٹی کے مین گیٹ پر ختم ہوا ۔
ریلی کے شرکا نے جعلی مقابلوں میں بلوچ لاپتہ افراد کے قتل عام بند کرنے تربت واقعہ میں ملوث کرداروں کے خلاف کارروائی اور بالاچ بلوچ کے قاتلوں کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا۔
خیال رہے کہ آج لاہور، حب اور تربت میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیر اہتمام پاکستانی فورسز کے ہاتھوں لاپتہ افرد کے جعلی مقابلوں میں قتل کیخلاف احتجاجی ریلی نکالی گئی ۔جبکہ تربت دھرنا گذشتہ چار دنوں سے میت کےساتھ جاری ہے ۔
بلوچستان کے ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت کے علاقے بانک ئِ چڑھائی میں گذشتہ دنوں 22نومبر کی رات سی ٹی ڈی نے ایک جعلی مقابلے میں 4افراد کو قتل کرکے 23 نومبر کو ان کی لاشیں تربت ٹیچنگ ہسپتال میںمنتقل کردیںاور دعویٰ کیا کہ ایک مقابلے میں مذکورہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
ان چاروں افراد کی شناخت بطور لاپتہ افراد کے ہوگئی ہے جنہیں مختلف اوقات میں پاکستانی فورسز نے مختلف علاقوں سے حراست میں لیکر جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا تھا۔