بلوچستان کے ضلع خاران میں گزشتہ دنوں ریاستی فورس ایف سی نے وڈھ ایرا میں چھاپہ مار کر یلانزئی خاندان کے 2 بچوں کو لاپتہ کیا جو کہ تاحال بازیاب نہ ہوسکے ہیں ۔
مغوی بچوں کے لواحقین نے میڈیا میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے لاپتہ بچے مختلف بیماریوں کے شکار ہیں انکو ایف سی والوں نے جبری طور پر ہمارے سامنے سے اغواء کیا ۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایک طرف تو پاکستان جیسے ریاست میں کرپٹ انتظامیہ کی وجہ سے مہنگائی نے ہر غریب خاندان کے کمر تھوڈ دئیے ہیں جبکہ دوسری طرف ایف سی والوں نے چھاپے کے دوران ہمارے گھر کے تمام تر ضروری سامان چوری کرکے اپنے ساتھ لے گئے ہیں ۔
لواحقین کے مطابق جب سے ہمارے بچوں کو ریاستی فورسز نے لاپتہ ہے اس وقت سے انکے والدین انتہائی ذہنی کرب میں مبتلا ہیں کہ کب ہمارے بیمار بچوں کو بازیاب کیا جائے گا ۔
علاقائی ذرائع کے مطابق فورسز اپنے علاقائی مخبروں کے ہمرا خاران سمیت پورے بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے ساتھ ساتھ گھروں کے متعدد قیمتی سامان چوری کرنے میں بھی ملوث رہے ہیں ۔
اہلیان خاران کا کہنا ہے کہ بی ایل اے کے ہاتھوں چیف جسٹس محمد نور مسکانزئی کی ہلاکت کے بعد ریاستی فورسز نے برائے راست خاران کے عام عوام کو لاپتہ کرنے کا جبری سلسلہ شروع کیاہے جو ہنوز جاری ہے ۔
اس سلسلے میں شفقت یلانزئی و عجاب یلانزئی کو پہلے پہل لاپتہ کیا گیا اور بعد میں یلانزئی خاندان کے چادر و چاردیواری کو پامال کرتے ہوئے بچوں کو اغواء کیاجارہا ہے۔