بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی خضدار کے آفیسرز نے اپنے مطالبات اور یونیورسٹی میں ہونے والے ناانصافیوں کے خلاف خضدار پریس کلب کے سامنے ریلی نکال کر احتجاجی مظاہرہ کیا۔
ریلی بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی خضدار سے نکالی گئی جو مختلف شاہراہوں سے ہوتی ہوئی پریس کلب پہنچی۔
ریلی کے شرکاءسے آفیسرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین جاوید احمد بلوچ، سابق چیئرمین انجینئر مختار احمد حلیمی، سابق جنرل سیکرٹری انجنیئر محمد بشیر جتک، جنرل سیکرٹری انجینئر محمد ابرہیم عمرانی نے خطاب کیا۔
مقررین کا کہنا تھا کہ ہم اپنے جائز مطالبات کے حق میں گزشتہ 15 روز سے یونیورسٹی میں سراپا احتجاج ہے مگر یونیورسٹی انتظامیہ ہمیں جان بوجھ کر دیوار سے لگایا ہوا ہے، تین سال قبل آل پارٹیز شہری ایکشن کمیٹی خضدار کے سربراہان کی موجودگی میں وائس چانسلر سے مذاکرات ہوئے اور ہم سے معاہدہ کیا گیا کہ جلد مطالبات کے اوپر عمل درآمد کیا جائے گا مگر تاحال ہمارے مطالبات پر کوئی عمل درآمد نہیں ہوا ہے بلکہ دوسروں جانب ہمارے ممبران کو یونیورسٹی انتظامیہ انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے متعدد آفیسران اپنی پرموشن کے انتظار میں ریٹائرمنٹ کے عمر کو پہنچ گئے ہیں ، یونیورسٹی میں غیر قانونی طریقے سے دوسرے صوبے سے ایک عمر رسیدہ شخص کو پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کے اہم کلیدی پوسٹ پر تعینات کیا گیا ہے جس کی یونیورسٹی لاءاجازت نہیں دیتا ہے، ہمارے دیگر مطالبات آفیسرز کی پرموشن ،اپ گریڈیشن، ٹائم اسکیل، ہاؤسنگ اسکیم کی نوٹیفیکیشن، کالونی میں رہائش پذیر اساتذہ اور آفیسرز سے ناجائز 5 فیصد کٹوتی، ڈی آر اے سمیت تمام بقایاجات کی ادائیگی، میڈیکل بلز کی ادائیگی یونیورسٹی میں جمہوری یونین سازی پر پابندی ملازمین کے ساتھ انتقامی کارروائیاں و دیگر مسائل شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وائس چانسلر ادارے کا سربراہ ہوتا ہے مگر یہاں ہم سمجھتے ہیں کہ وائس چانسلر صرف چند افراد کے مفادات کے لیے کام کرہا ہے یونیورسٹی کے باقی سب ملازمین کا استحصال ہو رہا ہے۔
انہوں نے گورنر بلوچستان وزیر اعلیٰ بلوچستان چیف سیکریٹری بلوچستان اور بلوچستان کے سیاسی رہنمائوں سے اپیل کی کہ یونیورسٹی میں ہونے والی بے ضابطگیوں کا نوٹس لیں۔