یمن کے حوثیوں کے ہاتھوں اسرائیلی تاجر کا بحری جہاز اغوا

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر میں اسرائیلی تاجر کا بحری جہاز اغوا کرلیا۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق ترکیے سے بھارت جانے والے جہاز پر عملے کے 52 افراد موجود ہیں، برطانوی کمپنی کا رجسٹرجہاز اسرائیلی ٹائیکون کی جزوی ملکیت ہے۔

اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ یمن کے حوثیوں کی جانب سے اغوا کیا گیا، بحری جہاز اسرائیل کی ملکیت نہیں،عملےمیں بھی کوئی اسرائیلی شامل نہیں ہے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق حوثی اسرائیلی کمپنیوں یا اسرائیلی پرچم والے جہازوں کو نشانہ بنانے کا کہہ چکے ہیں۔

دوسری جانب امریکی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ حوثی سمجھے جانے والے مسلح افراد نے اتوار کے اوائل میں جنوبی بحیرہ احمر میں ایک جاپانی مال بردار جہاز کو ہائی جیک کرنے کے لئے ایک ہیلی کاپٹر کا استعمال کیا ہے۔

این بی سی کے مطابق تین امریکی عہدیداروں نے وضاحت کی کہ ہیلی کاپٹر نے مقامی وقت کے مطابق دوپہر تقریباً ایک بجے بہاماس کا جھنڈا لہرانے والے جاپانی ملکیتی بحری جہاز ’’گلیکسی لیڈر‘‘ کے اوپر سے اڑان بھری اور متعدد مسلح حوثی اس کے عرشے پر اتر گئے۔

یمن کے ساحل پر یہ حملہ حوثی باغیوں کی جانب سے عبرانی، عربی اور انگریزی میں کیپشن کے ساتھ ایک گرافک جاری کرنے کے چند روز بعد ہوا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ہم تمہارے بحری جہازوں کو ڈبو دیں گے۔ ساتھ ایک ڈرائنگ میں ایک اسرائیلی تجارتی بحری جہاز کو آگ لگتی ہوئی دکھائی گئی۔

16 نومبر کو بین الاقوامی میری ٹائم سیکیورٹی آرگنائزیشن نے خطرے کے پیش نظر بحیرہ احمر اور یمن اور جبوتی کے درمیان باب المندب کے علاقے میں تمام ملاحوں کو وارننگ جاری کی تھی۔ تاہم اس انتباہ میں حوثیوں کا نام ذکر نہیں کیا گیا تھا۔ وارننگ میں بحری جہازوں کو یمنی پانیوں سے زیادہ سے زیادہ دور رہنے کا مشورہ دیا گیا اور جتنا ممکن ہو رات کو سفر کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔

یمن میں حوثی گروپ نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے بحری جہاز کو جنوبی بحیرہ احمر میں قبضے میں لے لیا ہے اور اسے یمنی بندرگاہ پر لے گئے ہیں۔

یمنی حوثیوں کے زیر کنٹرول حدیدہ کی بندرگاہ پر ایک ذریعہ نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ حوثیوں نے بحیرہ احمر میں ایک تجارتی جہاز کو ہائی جیک کیا اور اسے حدیدہ میں سلف کی بندرگاہ پر پہنچا دیا ہے۔

دریں اثنا اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے تصدیق کی کہ حوثی گروپ نے بحیرہ احمر میں ایک بحری جہاز پر قبضہ کرلیا ہے۔ یہ ایرانی حملوں کے حوالے سے ایک اگلا اقدام ہے۔

نیتن یاھو نے کہاکہ اس سے بین الاقوامی شپنگ لائنوں کی حفاظت پر بین الاقوامی اثرات مرتب ہوں گے۔

اپنے دفتر سے ایک بیان میں نیتن یاہو نے ایک بین الاقوامی جہاز پر ایرانی حملے کی مذمت کی اور کہا کہ جہاز کو ہائی جیک کرنا حوثی ملیشیا کی جانب سے ایرانی ہدایات کے زیر اثر عمل میں آیا ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ حوثیوں نے جس جہاز پر حملہ کیا وہ ایک برطانوی کمپنی کی ملکیت تھا اور اسے جاپانی کمپنی چلاتی تھی۔

انہوں نے لکھا کہ بحری جہاز پر 25 افراد سوار ہیں جن میں یوکرینی، بلغاریائی، فلپائنی اور میکسیکن افراد شامل ہیں۔

انہوں نے کہا بحری جہاز پر کوئی اسرائیلی نہیں تھا۔ اس جہاز کو ایک اسرائیلی کمپنی سے کرائے پر لیا گیا تھا۔

Share This Article
Leave a Comment