غزہ شہر کی الشفا ہسپتال کے ڈائریکٹر نے کہا ہے کہ اسرائیلی حملے سے البراق سکول میں 50 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
محمد ابو سلامیہ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کی طرف سے میزائل حملے کے بعد النصر کے قریب واقع تباہ شدہ سکول کے اندر سے 50 لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔
دوسری جانب الشفا ہسپتال کے قریب دھماکوں کی آوازوں لوگوں کا کہنا ہے کہ شاید اسرائیلی ٹینک ہسپتال کے قریب پہنچ گئے ہیں۔
اس وقت اسرائیلی فوج کے ٹینک ہسپتال کے بہت قریب تر آتے جا رہے ہیں۔
اس ہسپتال سے ہزاروں لوگ ان جگہوں پر چلے گئے ہیں جنھیں وہ قدرے محفوظ سمجھتے ہیں۔ تاہم یہاں غزہ میں اس وقت احساس تحفظ بالکل ناپید ہو چکا ہے۔
ایک شہری کا کہنا تھا کہ میں اس وقت اسرائیلی ٹینکوں سے چند سو میٹر دور غزہ شہر کی الشفا ہسپتال کے باہر موجود ہوں۔ یہ ٹینک شمال اور جنوب کی طرف سے اس ہسپتال کی طرف پیشقدمی کر رہے ہیں۔
اس ہسپتال کے اندر ہزاروں زخمی لوگ داخل ہیں۔ ان میں سے بہت سارے ابھی بھی شدید زخمی ہیں۔ اب یہ لوگ اپنے زخموں کی وجہ سے ہسپتال چھوڑ کر نہیں جا سکتے ہیں۔
اس ہسپتال میں اس مخدوش صورتحال میں بھی اپنے پیاروں کی دیکھ بھال کے لیے بھی لوگوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔
اس وقت غزہ میں ایندھن اور دوائیوں کی شدید کمی واقع ہو چکی ہے۔ اس وقت اسرائیلی فوج کے ٹینک ہسپتال کے بہت قریب تر آتے جا رہے ہیں۔
اس علاقے میں اسرائیلی افواج نے فضائی اور زمینی حملے کیے۔
واضع رہے کہ غزہ میں مارے جانے والوں کی تعداد 11000 سے تجاوز کر گئی ہے۔
غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیلی کی فضائی بمباری اور زمینی حملوں میں مرنے والے فلسطینیوں کی تعداد 11 ہزار سے بڑھ کر 11078 ہو گئی ہے۔
مرنے والوں میں 4506 بچے اور 3000 سے زائد خواتین شامل ہیں۔ ان اسرائیلی حملوں میں 27000 سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے ہیں۔
غزہ کی وزرت صحت کا اعدوادوشمار اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ غزہ میں مرنے والوں کی تعداد تقریباً 5400 بنتی ہے۔
اس سے پہلے امریکہ اور اسرائیل یہ کہہ چکے ہیں کہ حماس کی وزارت کی طرف سے دیے جانے والے اعدادوشمار کو احتیاط سے پرکھیں مگر اب عالمی ادارہ صحت یہ کہہ چکا ہے کہ جو اعدادوشمار حماس کی طرف سے دیے جارے ہیں وہ درست ہیں۔