بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک پریس ریلیز میں پاکستانی فوج کے ایک مخبر یاسین ابراہیم کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے ریاستی مخبر یاسین ولد ابراہیم کو 26 اکتوبر کو آواران کے علاقے بزداد سے گرفتار کیا۔ دوران تفتیش ریاستی مخبر نے سرمچاروں کی نقل و حرکت، عوام کو بلیک میل کرکے فوج کے ہاتھوں اغوا کرنے سمیت دیگر سماجی برائیوں کا اعتراف کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ واضح رہے کہ مذکورہ ریاستی مخبر اور ڈیتھ اسکواڈ کا کارندہ مختلف آپریشنوں میں پاکستانی فوج کا ساتھ دینے سمیت عوام کو دھمکیاں دیتا کہ سرمچاروں اور انکی نقل و حرکت کے بارے میں مجھے معلومات دیں بصورت دیگر انھیں فوج کے ہاتھوں اغوا کیا جائے گا۔ مذکورہ ایجنٹ آواران اور کولواہ میں ڈکیتیوں اور منشیات کے کاروبار سمیت دیگر سماجی برائیوں میں ملوث تھا۔ وہ آواران، گیشکور،کولواہ، چمبرو،کینچی، میں تیزی سے متحرک تھا۔ اس نے اپنی تمام نیٹ ورک کی تفصیلات بتائیں۔
میجر گہرام بلوچ نے کہا کہ اعتراف جرم کے بعد ریاستی مخبر کوقومی عدالت نے موت کی سزا سنائی جس پر 31 اکتوبر اور 1 نومبر کی درمیانی رات کو عمل درآمد کر کے اسے نونڈہ شم میں ہلاک کر دیا گیا۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ اعترافی ویڈیو جلد شائع کی جائے گی۔
بیان میں کہا گیاکہ ریاستی فوج، انکے سہولت کار اور مقامی ایجنٹ سرمچاروں کے نشانے پر ہیں۔