چمن : بلوچستان افغان بارڈر پر دھرنا 13ویں روز بھی جاری

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے افغانستان بارڈر چمن میں پاسپورٹ سسٹم نافذ کرنے کے خلاف دھرنا آج 13 ویں بھی جاری رہا۔

حکومت کی جانب سے 31 اکتوبر کے ڈیڈ لائن گزر جانے کے بعد پاک افغان بارڈر پر پاسپورٹ کے بغیر آمدورفت بند کر دیا گیا جس سے دن بھر بارڈر پر رش لگا رہا۔

دھرنے میں شریک عوام کا ایک ہی مطالبہ ہے حکومت سے کہ چمن کے عوام کو بلوچستان افغان بارڈر پر پرانے طرز عمل یعنی پاکستان سے قومی شناختی کارڈ جبکہ افغانستان سے آنے والوں کو تذکرہ پر اجازت دی جائے ۔

دھرنامظاہرین کا کہنا تھا کہ ہم پرامن احتجاج کر رہے ہیں حکومت کو ہم یہ یقین دلاتے ہیں کہ ہم پرامن رہیں گے جبکہ تک ہمارے مطالبات حل نہیں ہوتے تب تک ہم اسی طرح سراپا احتجاج رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے احتجاج سے کسی کو نقصان نہیں پہنچے گا حکومت سے بھی اپیل کرتے ہیں ہمیں پرامن احتجاج کرنے دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے لوگوں کے کاروبار اور جائیدادیں اس پار ہے جو پاسپورٹ سسٹم پر روزانہ کی بنیاد پر بلوچستان افغان بارڈر آ جا نہیں سکتے ۔

دوسری جانب دھرنے کے ارد گرد سیکورٹی بھی بڑھا دی گئی ہے۔

پولیس کی بڑی تعداد موجود ہے جن کے پاس بکتر بند گاڑیاں اور سیفٹی کیلئے سامان موجود ہے ۔

Share This Article
Leave a Comment