وڈھ میں ماں بیٹے کا قتل و پسنی میں نازیہ بلوچ کی خودکشی کی تحقیقات کی جائے، بلوچ وومن فورم

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچ وومن فورم کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں پسنی سے پندرہ سالہ نازیہ بلوچ کی خودکشی اور وڈھ میں ماں بیٹے کے بے رحمانہ قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان ایک ایسی قدیم تاریخ رکھتی ہے جہاں غیر اقوامی قبضہ گیریت، شدید جنگی حالتوں میں بھی خواتین کو تحفظ حاصل رہا ہے بلوچ خواتین کو جنگی دور میں بھی ایسا وقارانہ مقام حاصل رہا جہاں جنگیں بھی انکی احترام میں روکھ دی جاتی تھیں مگر آج بلوچ خواتین اپنے ہی سرزمیں ، اپنے ہی قوم کے درمیاں اپنے گھر و گِدانوں میں محفوظ نہیں رہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ایسے کئی واقعات گزرے ہیں جن میں برائے راست خواتین کو قتل کیا گیا، جن میں ملک ناز، کلثوم اور آج وڈھ میں ایک بلوچ ماں کی قتل اسی ریاستی اجتماعی سزا کا ایک خاص حصہ ہے۔یاد رہے کہ بلوچستان میں بلوچ خواتین کو ایک جانب سنگین ریاستی اجتماعی سزا کا سامنا ہے۔ تو دوسری طرف بلوچ سماج کو بلوچ خواتین کے لیے مذہبی جنونیت اور فرسودہ روایتوں میں منتقل کیا گیا ہے جس کی فضا میں بلوچ خواتین کو نہ صرف چار دیواریوں میں محدود کر رکھا ہے بلکہ انکی انسانی آزادی، حقوق نسواں اور صنفی برابری نہ ہونے کے برابر ہے مساوی مواقع تو دور کی بات خواتین کی بقا ہی بلوچستان میں ایک سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ خواتین کے حقوق پر حکومتی دعوے صرف زبانی کلامی ہی ثابت ہو رہے ہیں۔

ترجمان نے مزید کہا ہے کہ پسنی میں نازیہ بلوچ کی خودکشی سے متعلق معلومات پر تنظیم کو تشویش ہے کہ یہ بظاہر خودکشی پیش کیا جارہا ہے مگر اس کے پیچھے کئی محرکات نظر آرہے ہیں جن کو درگزر نہیں کیا جاسکتا۔ چند مہینوں میں ہی خودکشی کے کئی کیسیز سامنے آئے ہیں تمام خودکشی کے واقعات الگ نوعیت کے رہے ہیں، ان واقعات میں نجمہ بلوچ، سمی بلوچ ولد علی حیدر، اٹھارہ سالہ ندا اور اب نازیہ بلوچ کا واقعہ سامنے آیا ہے۔

ترجمان نے بیان کے آخر میں کہا ہے کہ بلوچ خواتین کی بقاریاست اور حکومت کی ذمے داری ہے ہر انسان کو زندہ رہنے کا مکمل حق حاصل ہے لیکن بلوچ خواتین سے جینے کا حق چھینا جا رہا ہے۔ بلوچ وومن فورم بین القوامی انسانی حقوق کے اداروں سے اپیل کرتی ہے کہ بلوچستان میں خواتین کے حقوق اور ان کے بقا کے لیے آواز اٹھائے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment