بلوچ اسٹوڈنٹس فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ مذمتی بیان میں کہا کہ تربت یونیورسٹی دنیا کی واحد یونیورسٹی ہے جہاں کتابوں پر قدغن لگائی گئی ہے۔ انتظامیہ کی طرف سے تربت یونیورسٹی میں کتاب دشمن پالیسی اور طلباء کی ہراسانگی قابل مذمت عمل ہے، جامعہ تربت انتظامیہ کی کتاب اور تعلیم دشمن اقدام شاید دنیا کے دیگر تعلیمی اداروں کے برعکس اپنی نوعیت کا پہلا اور انوکھا واقعہ ہوگا جس میں یونیورسٹی انتظامیہ نے باقاعدہ اعلانیہ طور پر کتابوں پر پابندی لگائی ہے جو کہ واضح طور پر تعلیم دشمن پالیسی ہے جسکی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ 2013 میں جب ڈاکٹر مالک اقتدار پر آتے ہیں تب تربت سمیت پورے بلوچستان میں کتابوں اور تعلیمی اداروں پر کریک ڈاؤن شروع ہوتی ہے۔ گھر گھر میں کتابوں پر چھاپے مارے جاتے ہیں۔ کتابوں کے دکانوں کو سیل کردیا جاتا ہے، بلوچستان سمیت فارن رائیٹر کے کتابوں پر پابندی لگائی جاتی ہے۔ گھروں میں کتابیں رکھنا گولہ بارود رکھنے جیسا ہوتا ہے۔ کچھ سالوں سے بلوچ طلباء تنظیموں و ادبی حلقوں کی طرف سے پورے بلوچستان میں کتاب کلچر کو پروموٹ کیا گیا ہے، آج ہر کوئی بلا جھجک کتاب اپنے ہاتھوں تھام کر پڑھ سکتا ہے لیکن آج ایک بار پھر بلوچستان میں کتابوں پر قدغن لگانے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے جو کہ انتہائی تشویشناک عمل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تربت یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے مختلف ہتھکنڈوں کے زریعے بلوچ طلباء کو ہراساں کرنا، تعلیمی اور سیاسی پروگرامز پر پابندی، طلباء کے ہاتھوں کتابیں چھین لینا، کتب میلے پر پابندی لگانا تعلیم اور سماج دشمن پالیسیوں کا شاخسانہ ہے۔ انتظامیہ کی تعلیم دشمن منصوبوں اور منفی رویوں سے تربت یونیورسٹی ایک تعلیمی ادارے کے بجائے ٹارچر سیل کی مناظر پیش کررہا ہے، جامعات جہاں علم وشعور کو فروغ دینے کیلئے تمام بنیادی تعلیمی سہولیات میسر ہونے کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم مہیا کی جاتی ہیں لیکن یہاں حقائق کے برعکس یونیورسٹی انتظامیہ تعلیم دشمن پالیسیوں پر عمل پیرا ہے جوکہ تعلیمی ادارے کیلئے ایک سوالیہ نشان ہے۔
بی ایس ایف کے ترجمان نے اپنے بیان کے آخر میں کہا کہ تُربَت یونیورسٹی انتظامیہ کو اپنے تعلیم دشمن پالیسیوں اور منفی رویوں کو ترک کر دینا چاہئے جبکہ بلوچ طلباء کو تعلیم کے حصول کیلئے تمام بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں ایک پرسکون ماحول میں درس و تدریسی عمل کو جاری رکھنے کے مواقعے فراہم کی جائیں۔ اگر انتظامیہ نے اپنے منفی رویوں اور تعلیم دشمن پالیسیوں کے تسلسل کو برقرار رکھا تو ہم ہر فورم پر اپنے تعلیمی حقوق کیلئے آواز اُٹھانے کا حق رکھتے ہیں۔