پاکستان بھر میں توہین مذہب کے الزام میں 179 افراد زیر حراست

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

پاکستان کی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کو آگاہ کیا گیا ہے کہ ملک بھر میں توہین رسالت کے مقدمات میں 179 افراد زیر حراست ہیں اور ٹرائل کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ 17 افراد کو سزا سنائی گئی ہے۔

نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی جانب سے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق میں پیش کی گئی رپورٹ میں توہین مذہب کے الزام میں گرفتار افراد کے اعداد وشمار دیے گئے ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ جڑانوالہ میں توہین مذہب کے الزام میں مسیحی عبادت گاہیں اور گھر نذر آتش کیے جانے کے واقعے کے ایک روز بعد منعقدہ قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر ولید اقبال نے کمیشن سے ملک بھر میں توہین کے مقدمات کی فہرست طلب کی تھی۔

سینیٹر ولید اقبال نے ہدایت کی تھی کہ اگر قانون مسلمانوں کے خلاف استعمال ہوا ہے تو اس پر بھی تفصیلات فراہم کی جائیں۔

علاوہ ازیں کمیٹی نے وزارت انسانی حقوق کی قومی رابطہ کمیٹی تشکیل دینے کی سفارش بھی منظور کی جو کہ اقلیتوں کو درپیش مسائل پر مؤثر کنٹرول کے لیے معیاری آپریٹنگ طریقہ کار کا مسودہ تیار کرے گی۔

قائمہ کمیٹی کے پاس جمع کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک بھر میں اس وقت 179 افراد زیر حراست ہیں جو توہین رسالت کے مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔

صوبوں کی طرف سے دیے گئے اعداد و شمار کا ذکر کرتے ہوئے رپورٹ میں نشان دہی کی گئی ہے کہ توہین کے الزامات میں 17 افراد اسلام آباد، 18 پنجاب، 78 سندھ، 55 خیبرپختونخوا اور ایک شخص بلوچستان میں زیر حراست ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اب تک 17 افراد کو سزا سنائی گئی ہے جن میں سے 11 اسلام آباد، 4 سندھ اور دو کا تعلق بلوچستان سے ہیں جبکہ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں کسی کو بھی سزا نہیں سنائی گئی۔

سینیٹر ولید اقبال نے کہا کہ قائمہ کمیٹی نے انسانی حقوق کمیشن سے جامع رپورٹ طلب کی تھی لیکن کمیٹی کی طرف سے ایک صفحے پر مشتمل رپورٹ جمع کرائی گئی ہے۔

سینیٹر نے کہا کہ اگلے اجلاس میں ہم کمیشن سے مزید تفصیلات بھی طلب کریں گے اور درج مقدمات کے حوالے سے بھی مکمل جائزہ طلب کیا جائے گا۔

سنیٹر ولید اقبال نے ذاتی مفادات کے لیے توہین رسالت کے قوانین کے استحصال پر تشویش کا اظہار کیا۔

Share This Article
Leave a Comment