بلوچستان کی دفا ع میں سانحہ پروم کا جنم

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

اداریہ

ماہنامہ سنگر مئی ایڈیشن

اپریل 26 کو پاکستانی فورسز کے ساتھ شدید لڑائی میں بلوچ قوم کے چار فرزندوں کی شہادت تحریک کے لیے یقیناً نقصان عظیم ہے۔ اس قسم کے نقصانات کا ازالہ مختصر مدت میں ممکن نہیں جس میں شہیدمیجر نوراحمد عرف پیرک جان اور شہیدلیفٹننٹ نواز عرف گلاب،عبدالمالک اور مومن جیسے فرزند قوم سے جدا ہوجاتے ہوں۔


اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ جب آزادی کی لڑائی شروع ہوتی ہے تو اس میں اس قسم کے واقعات رونما ہوتے ہیں۔اسی قسم کا ایک واقعہ آج سے پانچ سال قبل مقبوضہ بلوچستان کے علاقے مشکے میں پیش آیا جب شہیدسلیمان جان، شہید سفر خان، شہید ذاکر اپنے پانچ ساتھیوں سمیت جام شہادت نوش کرتے ہیں۔پنجگور اور پروم واقع میں قدرے اشتراک دیکھنے کو ملتا ہے جہاں مشکے واقع میں شہید سلیمان جان بلوچ قوم کے نام اپنا آخری پیغام ریکارڈ کراتا ہے اسی طرح پنجگور”پروم“ واقع میں شہیدمیجر نوراحمد جان قوم کے نام پیغام ارسال کرتا ہے جس میں نہ صرف وہ قوم کا حوصلہ بلند رکھنے کی کوشش کرتا ہے بلکہ اس جنگ میں قوم کی جیت کی نوید بھی سناتا ہے۔ اس حوالے سے شہید میجر نوراحمد کاکہنا تھا کہ”آج ہم پروم میں مقامی ڈیتھ سکواڈ اور فوج کے گھیرے میں آچکے ہیں، اب تک ہمارا ایک ساتھی شہید اور ایک زخمی ہوچکا ہے، ہم پاکستانی فوج کے محاصرہے میں ہیں اور وہ مارٹر گولے فائر کر رہے ہیں۔“ ایسی حالت میں جہاں وہ چاروں طرف سے فوج کے نرغے میں ہوں اور ہر جانب آتش و آہن کی برسات جاری ہو، ایسے میں اس نوعیت کا پیغام قوم کے لیے نوید صبح سے کم نہیں۔ یہی حوصلہ دراصل اقوام کی تقدیر بدلنے کا ذریعہ بنتی ہے۔ شہید میجر نوراحمد نے مزید کہا کہ ”میری ماں، بہن اور چھوٹے اس بات پر غمگین نہ ہوں کہ ہم مارے جارہے ہیں۔ آج آپ لوگوں کو فخر ہونا چاہیے کہ ہم ننگ اور وطن کے لئے مارے جارہے ہیں۔ ہم نے ایسا کارنامہ سرانجام دیا ہے اور ایسا کارنامہ انجام دے رہے ہیں کہ انشااللہ آپ لوگوں کا سر نہ جھکے، نہ آئندہ جھکے گا۔


اپنی پسماندگاں کو سنبھالیں۔ اس جنگ کو اپنا سمجھیں۔ یہ نہ ہوکہ ہماری شہادت کے بعد اس جنگ سے کنارہ کش ہوجائیں۔ یہ جنگ آپ لوگوں کا ہے اسے آگے بڑھائیں اور(جنگ میں شامل نوجوان)آپ کے بیٹے اور بھائی ہیں۔ اور ہم یکجاہ اور اکٹھے ہیں۔ یہاں نہیں تو اس دنیا میں اکٹھے ہیں۔“ اس پیغام کا سب اہم پہلو جس کا ذکر شہید نوراحمد نے کیا ہے وہ اس کی سیاسی پختگی، نظریے اور فکر کو مزید دوام بخشتی ہے جہاں وہ کہتا ہے کہ ”میں اپنے سینئر ساتھیوں سے اپیل کرتا ہوں کہ اپنے تنظیم اور اداروں کو مضبوط کریں۔ اداروں کے لئے کام کریں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ خدانخواستہ یہ جنگ ختم ہو یا کمزور ہو۔“ یعنی اداروں کے پروان چڑھانے میں ہی قوم کی بقاء ہے لہذا تحریک کی اس ضرورت کو جس کی نشاندہی شہید میجر نوراحمد نے کی ہے تحریک کے رہنماؤں سمیت ہر کارکن کو اس جانب سب سے زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے کیوں کہ تحریک کی کامیابی کا انحصار مربوط ادارتی نظام میں پنہاں ہے۔اگر ہم اداروں کی بحالی یا ان سے روگردانی کریں گے تو اس سے نہ صرف حالیہ تحریک زمین بوس ہوگی بلکہ مستقبل قریب میں دوبارہ سنبھلنے کے مواقع بھی انتہائی کم ہونگے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment