پاکستان میں سائفر کیس میں وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے گزشتہ روز آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت قائم خصوصی عدالت میں چالان (چارج شیٹ) جمع کرادیا، جس میں سابق وزیراعظم عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو مرکزی ملزم قرار دیا گیا۔
باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ مقدمے کے دیگر ملزمان بشمول سابق پرنسپل سیکریٹری اعظم خان اور سابق وفاقی وزیر اسد عمر کو چالان کے کالم 2 میں رکھا گیا ہے، اس کالم میں ٹرائل کے لیے نہ بھیجے گئے ملزمان کے نام شامل ہیں اور مفرور افراد کے نام بھی سرخ سیاہی سے درج ہیں۔
چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو کالم 3 میں رکھا گیا ہے جس میں ٹرائل کے لیے بھیجے گئے ملزمان کے نام اور ایڈریس بتائے گئے ہیں۔
ایف آئی اے نے چالان آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے سیکشن 5 اور 9 کے تحت کیا جس کے تحت جرم ثابت ہونے پر سزائے موت یا 2 برس سے 14 برس تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
تفتیشی ایجنسی نے چالان میں 27 گواہوں کا حوالہ دیا، ذرائع کا کہنا ہے کہ ان میں سے تقریباً ایک درجن گواہوں کو گواہوں کے خانے میں پیش کیے جائے گا، مرکزی گواہ اعظم خان پہلے ہی عمران خان کے خلاف گواہی دے چکے ہیں، ان کا یہ بیان ان کی کئی مہینوں کی گمشدگی کے بعد سامنے آیا۔
اعظم خان نے مبینہ طور پر کہا کہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے اُس وقت پارلیمنٹ میں اپنے خلاف جمع کروائی گئی تحریک عدم اعتماد سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے سائفر کا استعمال کیا۔
بیان میں الزام عائد کیا گیا کہ عمران خان نے اعظم خان کو بتایا کہ وہ اس سائفر کو عوام کے سامنے رکھیں گے اور یہ بیانیہ توڑ مروڑ کر پیش کریں گے کہ مقامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر اُن کی حکومت کے خلاف غیر ملکی سازش رچی جا رہی ہے۔
بیان کے مطابق اعظم خان نے سائفر عمران خان کے حوالے کیا تھا جنہوں نے بعد میں اسے کھو دیا اور بار بار درخواست کے باوجود واپس نہیں لوٹایا۔
ایف آئی اے نے ٹرائل کورٹ میں چالان ایسے وقت میں جمع کروایا ہے جب عمران خان نے سائفر کیس میں بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست دائر کر رکھی ہے، اُن کے وکیل نے دیگر دلائل کے علاوہ نشاندہی کی کہ استغاثہ نے چالان پیش نہیں کیا۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے ایف آئی اے کے چالان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے خفیہ سازش کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطح کے عدالتی کمیشن کی تشکیل کے مطالبے کو دہرایا تاکہ حقیقت کو سامنے لایا جا سکے۔