سکرنڈ : سندھی قوم پرستوں کے گھروں پر فورسز کا حملہ ،7 افراد ہلاک

ایڈمن
ایڈمن
6 Min Read

پاکستان کے صوبہ سندھ کے نواب شاہ کے علاقے سکرنڈ کے گاؤں ماڑی جلبانی میں پاکستانی فورسز رینجرز اور پولیس نے بزرگ سندھی قوم پرست رہنما رجب جلبانی کے گھر پر چھاپہ مارا، گھر والوں کو تشدد اور زد کوب کیا، مزاحمت کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں5 خواتین اور 2 مرد ہلاک ہو گئے ۔

ہلاک ہونے والے افراد کے رشتہ داروں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "ہم صبح معمول کے مطابق کھیتی باڑی میں مصروف تھے کہ فورسز کی بھاری نفری نے گاؤں میں آکر گھروں میں گھس کر لوگوں ہراساں کرنا شروع کر دیا، جب گاؤں والوں نے مزاحمت کرکے فورسز کو روکنے کی کوشش کی تو فورسز نے خواتین اور مردوں پہ اندھا دھند فائرنگ کردی۔

لواحقین نے بعد ازاں لاشیں ہائی وے پہ رکھ کے احتجاج کیا اور سپریم کورٹ سے اس واقعہ کا نوٹس لینے اور انہیں انصاف دلانے کی اپیل کی۔

ا س سلسلے میں سندھ رینجرز کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ جرائم پیشہ عناصر کی موجودگی کی خفیہ اطلاع موصول ہونے کے بعد سکرنڈ میں پولیس کے ساتھ مشترکہ آپریشن کیا گیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ہمیں اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ انتہائی مطلوب مجرموں کے پاس دھماکا خیز مواد اور آتشیں اسلحہ موجود ہے۔

رینجرز اور پولیس نے دعویٰ کیا کہ فورسز کو دیکھ کر مسلح شرپسندوں نے فائرنگ کردی جس سے چار رینجرز اہلکار زخمی ہوگئے جبکہ جوابی فائرنگ میں تین شرپسند مارے گئے۔

تاہم پولیس کا بیان رینجرز کے بیان سے یکسر مختلف ہے ۔

پولیس کا کہنا ہے کہ آپریشن میں چار شرپسند مارے گئے، یہ آپریشن سندھ میں تخریبی سرگرمیوں میں ملوث کالعدم سندھ ریوولوشنری آرمی سے وابستہ افراد کو پکڑنے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ مقتولین کی شناخت اخان علی، مہر، سجاول اور کھیرر کے نام سے ہوئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ زخمی ہونے والوں کی شناخت سارنگ، امام الدین، اللہ داد اور علی نواز کے نام سے ہوئی ہے، زخمی ہونے والے پانچ سیکیورٹی اہلکاروں میں انسپکٹر محمد آصف، عبدالرشید، محمد اویس، محمد نعیم اور محمد اویس اصغر شامل ہیں۔

دوسری جانب سندھ یونائیٹڈ پارٹی نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے فراہم کردہ بیان سے اختلاف کیا ہے۔

سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے سیکریٹری جنرل روشن بریرو نے پاکستانی میڈیاہائوس ڈان کو بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سکرنڈ میں واقع شہید بے نظیر بھٹو یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز میں ویٹرنری کے طالب علم لیاقت جلبانی کو حراست میں لے لیا ہے۔

روشن بریرو کے مطابق حکام لیاقت جلبانی کو سکرنڈ کے گاؤں ماری جلبانی میں اللہ داد جلبانی کی رہائش گاہ پر لائے تھے جہاں پورا آپریشن انجام دیا گیا، انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ تصادم اس وقت ہوا جب خواتین اور بچوں سمیت مقامی باشندے اللہ داد کے گھر کے اندر اور باہر جمع ہوئے اور اس دوران دیہاتیوں کی جانب سے اللہ داد جلبانی کو بچانے کی کوشش کی وجہ سے جھڑپ ہوئی۔

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ مقامی افراد نے کامیابی کے ساتھ لیاقت جلبانی کی حراست سے رہا کرا لیا لیکن اس جھگڑے کے دوران چار افراد ہلاک ہوئے۔

روشن بریرو نے انکشاف کیا کہ گاؤں والوں نے اس واقعے کے خلاف سکرنڈ میں قومی شاہراہ کے ایک حصے پر چار لاشیں رکھ کر احتجاج کیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ مرنے والے افراد ہماری پارٹی کے حامی تھے، سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے صدر سید زین شاہ مظاہرے میں شرکت کے لیے سکرنڈ جا رہے تھے۔

انہوں نے مزید الزام لگایا کہ پولیس پیپلز پارٹی کے زیر اثر ہے، پارٹی کے حامیوں کو نشانہ بنا کر آئندہ عام انتخابات سے قبل سندھ یونائیٹڈ پارٹی کو جان بوجھ کر پیغام بھیجا گیا۔

اس کے علاوہ، ایک بیان میں سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے صدر نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے انتہائی افسوسناک قرار دیا، انہوں نے پیپلز پارٹی پر عام انتخابات سے قبل انتقامی کارروائیاں شروع کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ سندھ کے عوام ایسے ہتھکنڈوں کو برداشت نہیں کریں گے۔

انہوں نے مزید الزام لگایا کہ پولیس نے جان بوجھ کر سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے غیر مسلح حامیوں کو قریب سے نشانہ بنایا اور اندھا دھند گولیاں چلائیں۔

دریں اثنا وائس فار مسسنگ پرسنز آف سندھ نے اپنے ایک مختصر بیان میں پاکستانی فورسز کے اس جبر کی شدید مذمت کی اور اسے انسانی حقوق کی پائمالی قرار دیا، سندھی قوم پرست حلقوں نے بھی اس سکرنڈ واقعے پہ شدید غم و غصہ کا اظہار کیا۔جبکہ دوسری طرف رینجرز ترجمان کی اسے پولیس اور رینجرز کی ایک مشترک کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ "جرائم پیشہ افراد کی موجودگی کی اطلاع پر آپریشن کیا گیا، جہاں ہائی ویلیو ملزمان کے پاس دھماکہ خیز مواد اور اسلحہ کی موجودگی کی اطلاع تھی، حملے کے نتیجے میں چار رینجرز اہلکار زخمی ہوگئے ہیں اور جوابی کارروائی میں تین حملہ آور ہلاک ہوئے ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment