پاکستان کے صوبہ سندھ کے دارلحکومت کراچی میں آرٹس کونسل کی جانب سے بلوچی زبان وبلوچستان کے معروف عوامی شاعر واجہ مبارک قاضی کی یاد میں بدھ کے روز ایک تعزیتی ریفرنس کا اہتمام کیا گیا، جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کرکے بلوچی کے محبوب شاعر مبارک قاضی کو خراج عقیدت پیش کیا۔
مقررین نے ان کی زندگی کے مختلف پہلوئوں کو بڑے خوبصورت اندازمیں اُجاگر کیا ، وہ نہ صرف دور حاضر کے عظیم شاعر تھے بلکہ اپنی پیدائشی سرزمین پسنی بلوچستان میں ایک بڑے سرکاری عہدہ پر فائز تھے ، اس کے باوجود ان کی زندگی فقیرانہ طور پر گزری ۔
تعزیتی ریفرنس سے معروف صحافی اور کالم نگار انور ساجدی، نامور بلوچ گلوگار نور محمد نورل ، معروف شاعرہ ڈاکٹر فاطمہ حسن ،صدر پریس کلب کراچی سعید سربای، ایڈوکیٹ واحد مراد بلوچ، واجہ اسحٰق خاموش، زاہدہ رئیس راجی، پرفیسر ڈاکٹر رمضان بامری ، احمد اقبال بلوچ ، سلیم بزّگ، اکرم بلوچ ، خلیل تگرانی ، رؤف روفی ، سانی سید ، ایڈوکیٹ جمیل بلوچ ، قادر بخش کلمتی سمیت متعدد لوگوں نے واجہ مبارک کازی کے فن ان کی شخصیت پہ اظہار خیال کیا، اور ان کی وفات کو ایک قومی سانحہ قرار دیا۔ ریفرنس کی میزبانی کے فرائض وحید نور نے سرانجام دیئے۔
اس سلسلے میں سینئر صحافی انور ساجدی نے مبارک قاضی کے بارے میں کہا کہ قاضی کو اپنی سرزمین اور عوام سے انتہائی پیار ومحبت تھی ان کا کلام الہامی ہے کیونکہ ان کی شاعری کے پیچھے ایک فکر موجود ہے اس فکر کا محور اس کی گل زمین ہے ۔ انہوں نے اپنے عوام کو جدوجہد کا راستہ دکھایا جو کئی برسوں سے جاری ہے ۔
ا نہوں نے کہا کہ قاضی کی شاعری فکر انگیز اختیار کرتی جارہی ہے ۔ اس میں کوئی تضاد نہیں ۔
انہوں نے کہا کہ بلوچ نے اپنے حقوق کے حصول کے لئے کبھی سرنڈر نہیں کیا اور بلوچ آگے بھی سرنڈر نہیں کریں گے بلکہ اپنی جدوجہد کو جاری رکھیں گے ۔
انور ساجدی نے کہا کہ اس ملک کے حکمران، بلوچ کی شناخت، زبان و شاعری کو تسلیم نہیں کرتے، ہم کسی کو منت سماجت نہیں کرینگے کہ وہ ہمیں تسلیم کرے کیونکہ بلوچ ایک قوم ہے اس کو کسی کی سند قبولیت کی ضرورت نہیں ہے، جو ہماری شناخت زبان و شاعری سے انکار کرے ہم بھی اس کو ماننے کو تیار نہیں ہیں۔
اپنے صدارتی خطاب میں بلوچ دانشور و روزنامہ انتخاب کے ایڈیٹر انور ساجدی نے مزید کہا کہ مبارک قاضی ایک ملنگ قسم کے محب وطن انسان تھے انہوں نے اپنی زندگی وطن وقوم کے لئے وقف کر رکھی تھی، وہ اپنی مٹی سے جڑے رہے اور اس کے گیت گاتے رہے۔
انور ساجدی کا کہنا تھا بلوچ قوم دو ہزار سال سے مزاحمت کر رہی ہے، اور مبارک قاضی کی شاعری اس دو ہزار سالہ تاریخ میں بلوچ کی پکار و للکار ہے۔
انہوں نے کہا بلوچ سیاسی رہنمائوں میں کئی میر جعفر بن گئے ہیں لیکن قوم کو کسی سیاسی رہنما کے لئے ڈپینڈنٹ نہیں ہونا چاہئے۔ قومیں منزل تک رسائی کے لئے راستے خود بناتی ہیں مجھے امید ہے کہ بلوچ نوجوان اپنے قوم کو مایوس نہیں کرینگے۔
قادر بخش کلمتی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قاضی مبارک ایک ملنگ صفت انسان تھے وہ اپنے لوگوں سے محبت کرتے تھے ۔ انہوں نے جو شاعری کی وہ سماج کی ناانصافیوں کی عکاسی کرتی ہے ۔ جس کی وجہ سے ہمارے دلوں میں زندہ ہیں انہوں نے امن ومحبت کی بات کی اس لئے آج اس فانی دنیا سے رخصت ہونے کے باوجود انہیں دنیا بھر میں یاد کیا جارہا ہے وہ ادبی دنیا کے درخشاں ستارے تھے ۔
ڈاکٹر پروفیسرعبدالواحد بلوچ نے قاضی کے بارے میں کہا کہ وہ ملک کے عظیم شعراءمیں سے ہیں، ان کی حیثیت فیض احمد فیض ، حبیب جالب، شیخ ایاز کی طرح ہے وہ انقلاتی شاعر ہونے کے ناطے اپنے چاہنے والوں کو اچھی زندگی کی اُمید دیتے رہے بلوچ نوجوانوں کو اچھی زندگی کی طرف راغب کیا، ان کی شاعری ترقی پسند اور روشن خیالی پر مبنی ہے ، بلوچی ادیب وشاعرصحافی احمد اقبال نے کہا کہ مبارک قاضی بنیادی طور پر صوفی تھے وہ بہت بڑے انسان تھے ان کی شاعری درد کا مجموعہ ہے اور ان کی شاعری لازوال ہے ۔
پروفیسر رمضان بامڑی نے کہا کہ قاضی مبارک کی زندگی پر نظر ڈالی جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ اس دنیا کا آدمی نہیں تھا، ان کی شاعری میں روشن خیالی ، فکر اور اپنے عہد کی سچائی پر مشتمل ہے ، ان کی شاعری انفرادی اور اجتماعیت پر مبنی ہے وہ بلوچ قوم کو باشعور دیکھنا چاہتے تھے۔ شاعری میں انسانی سوچ اور تڑپ موجود ہے قاضی آرام پسند نہیں تھے ۔ انہوں نے نوجوان نسل کو ترقی کا راستہ بتا دیا جس کی وجہ سے ہر طبقے کے لوگ ان کی شاعری کو اہمیت دیتے ہیں۔
انہوں نے سچائی کو نہیں چھوڑا کیونکہ ان کی زندگی میں انکساری موجود تھی۔
ڈاکٹر فاطمہ حسن نے کہا کہ قاضی مبارک نے نا انصافیوں پر قلم اُٹھایا تھا وہ جیل جانے سے نہیں ڈرتے تھے وہ ایک باشعور انسان تھے انہیں الفاظ کے استعمال کرنے کا ہنر آتا تھا وہ ایک عہد ساز آواز تھے ۔
سینئر صحافی اکرم بلوچ نے کہا کہ قاضی مظلوم ومحکموم عوام کے لئے پوری زندگی جدوجہد کرتے رہے اور آخری سانس تک قائم رہے وہ ایک بہت بڑے شاعر تھے ۔
تعزیتی تقریب سے کراچی پریس کلب کے صدر سعید سربازی شاعر وادیب وحید نور، بانک زاہدہ رئیس، کامریڈ واحد، اسحاق ثانی سعید، نور محمد نورل، ایڈوکیٹ جمیل اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔