امریکا کے صدر جو بائیڈن نے منگل کے روز اقوام متحدہ سے یوکرین میں روس کی ننگی جارحیت رکوانے کی اپیل کی ہے اور خبردارکیا ہے کہ اگر دنیا نے ماسکو کو خوش کیا تو دیگر ریاستیں خطرے میں پڑ جائیں گی۔
جو بائیڈن نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اٹھترویں سالانہ اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔
انھوں نے کہا کہ ’’ہمیں آج اس ننگی جارحیت کا مقابلہ کرنا ہوگا تاکہ دوسرے جارحین کا راستہ روکا جا سکے‘‘۔
صدر بائیڈن نے خبردار کیا کہ اگر دنیا روس کو خوش کرنے کی کوشش کرتی ہے تو امن اور قومی خودمختاری کے اقوام متحدہ کے "بنیادی اصول” خطرے میں پڑسکتے ہیں۔
روس نے فروری 2022 میں یوکرین پر حملہ کیا تھا اور یہ جنگ اس مرتبہ مسلسل دوسرے سال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کا اہم موضوع ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ امن کے لیے روس کی قیمت یوکرین کا ہتھیار ڈالنا، یوکرین کا علاقہ اور یوکرین کے بچّے ہیں۔روس کو یقین ہے کہ دنیا شاید تھک جائے گی اور اسے بلا روک ٹوک یوکرین پر ظلم کرنے کی اجازت دے گی۔
انھوں نے سوال کیا کہ ’’کیا اس ادارے کا کوئی رکن ملک یہ اعتماد محسوس کر سکتا ہے کہ اگر آپ یوکرین کو محصور بنانے کی اجازت دیتے ہیں تو وہ( باقی ممالک) محفوظ ہیں؟ کیا کسی قوم کی آزادی محفوظ ہے؟میں احترام کے ساتھ مشورہ دوں گا کہ اس کا جواب نہیں ہے‘‘۔
بائیڈن نے مزید کہا کہ امریکا اور اس کے اتحادی یوکرین کے بہادرعوام کے ساتھ کھڑے رہیں گے کیونکہ انھوں نے ملک سے روسی افواج کو نکالنے کی کوشش کی ہے۔
اپنی ٹریڈ مارک خاکی قمیص پہنے یوکرینی صدر ولودی میر زیلنسکی نے اقوام متحدہ کے ہال میں اپنے ملک کے وفد کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اور انھوں نے صدر بائیڈن کی تقریر کے اختتام پر تالیاں بجائیں۔
زیلنسکی جمعرات کو وائٹ ہاؤس کا دورہ کریں گے تاکہ وہ امریکی امداد اور اسلحہ کے حصول کے لیے بات چیت کر سکیں اور اس اسلحہ کی کمک سے یوکرین کے روس کے خلاف سست روی سے جاری جوابی حملے کو آگے بڑھایا جا سکے۔