حب : اٹک سیمنٹ فیکٹری میں مزدوروں کیساتھ نارواسلوک کیخلاف احتجاجی ریلی

ایڈمن
ایڈمن
7 Min Read

بلوچستان کے صنعتی علاقے حب میں اٹک سیمنٹ فیکٹری انتظامیہ و سی بی اے یونین کی زیادتیوں اور محنت کشوں کے ساتھ نارواسلوک کے خلاف آل پاکستان مری اتحاد کے گزشتہ روز حب شہر میں ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی۔

ریلی میں مختلف سیاسی وسماجی جماعتوں تنظیموں نیشنل پارٹی ،پاکستان پیپلزپارٹی ،جماعت اسلامی ،ساکران یکجہتی کمیٹی ،حب عوامی پینل سمیت حب وساکران کے شہریوں نے شرکت کی ۔

ریلی کے شرکاءنے اپنے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر اٹک سیمنٹ فیکٹری انتظامیہ اور مزدور یونین کے خلاف کے عہدیدارا ں کے خلاف نعرے درج تھے ریلی شرکاءنے کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ کا گشت کیا اور اٹک سیمنٹ فیکٹری کی محنت کشوں کے ساتھ نارواسلوک نامنظور کے نعرے لگائے اور فیکٹری میں مقامی لوگوں کو ملازمتیں فراہم کرنے اور کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کرنے کا مطالبہ کیا۔

اس موقع پر مظاہرین سے آل پاکستان مری اتحاد کے حاجی عبدالرحیم مری ،نیشنل پارٹی لسبیلہ کے صدر عبدالغنی رند ،صوبائی نائب صدر خورشید علی رند ،پیپلزپارٹی ڈسٹرکٹ حب کے جنرل سیکرٹری شریف پالاری ،حب عوامی پینل کے سربراہ انجینئر سعید احمد مینگل ،جماعت اسلامی کے رہنماء محمد جان مری ،پیپلزپارٹی کے رہنماءکونسلر عثمان کوہ بلوچ ،محمد جان مری ،ساکران یکجہتی کمیٹی کے چیئرمین لالہ مری ،نیشنل پارٹی تحصیل حب کے صدر روشن جتوئی ،سابق کونسلر علی اصغر چھٹہ ،سیاسی وسماجی رہنماءمعشوق رند ،زمان خان مر ی ،قائم علی خان ،بھوتانی کارواں کے رہنماءخیر بخش بگٹی ،و دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اٹک سیمنٹ فیکٹری اور یونین کے عہدیداران کی زیادتیوں اور محنت کشوں کے ساتھ نارواسلوک اختیار کرنے کے خلاف حب کی مختلف سیاسی وسماجی جماعتوں اور تنظیموں کے کارکناں سمیت ساکران اور حب کے شہری سراپااحتجاج ہیں اور سڑکوں پر نکل آئے ہیں مذکورہ سیمنٹ فیکٹری مینجمنٹ کی زیادتیاں عروج پر پہنچ چکی ہیں اور انکا نہ تو محنت کشوں کے ساتھ رویہ درست ہے اور نہ ہی علاقوں کے لوگوں کے ساتھ صحیح طریقے سے پیش آتے ہیں۔

انھوں نے کہاکہ اٹک سیمنٹ فیکٹری ساکران میں بھی قائم ہے اس کے باوجود بھی ساکران پسماندگی کا شکار ہے اور فیکٹری میں حب وساکران کے مقامی لوگوں کے بجائے دیگر دیگر صوبوں اور علاقوں سے غیر مقامیوں کو بھرتی کر کے انہیں ملازمتیں د ی جارہی ہیں فیکٹری کی چمنیوں سے خارج ہونے والی زہریلا دھواں اور ڈسٹ اور بیماریوں ساکران کے لوگوں کے لئے جبکہ روزگار دیگر علاقوں سے آنے والے افراد کیلئے کسی ظلم سے کم نہیں ہے ۔

انھوں نے کہاکہ چند ماہ قبل بھی اٹک سیمنٹ فیکٹری انتظامیہ اور یونین کے عہدیداران کی زیادتیوں کے خلاف مذکورہ فیکٹری کے ملازمین فیکٹری گیٹ کے سامنے سراپا احتجاج ہوئے تھے بعدازاں مسئلے کے حل کیلئے نواب گزین خان مری کی موجودگی میں فیکٹری انتظامیہ اور یونین کے نمائندوں کے روح بروح معاملہ حل کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی جس کے بعد احتجاج کرنے والے ملازمین نے اپنا احتجاج ختم کیا لیکن اب تک مقامی کنٹریکٹ ملازمین کے مسائل جوں کے توں ہیں ان کا کوئی پر سان حال نہیں۔

انھوں نے کہاکہ جبکہ حاجی رحیم مری نے اٹک سیمنٹ فیکٹری کے ملازمین کے حقوق کیلئے آوا ز اٹھا یا تو فیکٹری انتظامیہ کی جانب سے رحیم مری سمیت احتجاج کرنے والے ورکرز کو دھمکانے کی کوشش کی گئی اور ان پر بے بنیاد من گھڑت الزامات لگائے جارہے ہیں اس عمل کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے ۔

مقررین نے مزید کہاکہ مذکورہ سیمنٹ فیکٹری انتظامیہ او ر نام نہاد یونین کی جانب سے محنت کشوں کے نارواسلوک اختیار رکرنا اور ظلم وزیادتی اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے ایک تو محنت کشوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا جاتا ہے تو دوسری جانب محنت کشوں کے ساتھ دینے والے معززین کو دھکیاں د ی جاتی ہیں اور ان پر ناجائز اور من گھڑت اور بے بنیاد الزامات لگائے جارہے ہیں۔

انھوں نے الزام عائدکرتے ہوئے کہاکہ اٹک سیمنٹ فیکٹری کی CSRفنڈز ساکران او رعوام کی فلاح وبہبود اور ان کی ترقی کے بجائے فیکٹری انتظامیہ اور یونین عہدیدارا ن کی ملی بھگت اور گھٹ جوڑ سے اپنے جبیں بھرلیتے ہیں CSRفنڈزکہاں خرچ ہورہا ہے زمین پر کہیں نظر نہیں آرہا سرکاری اسپتال میں کچھ ادویات کے نام پر CSRفنڈز خرد برد کیا جاتا ہے جبکہ دوسری جانب اٹک یونین محنت کشوں اور غریبوں کے حقوق پر مشب خون مار رہا ہے اب وقت آگیا ہے کہ سرمایہ داروں کے خلاف ایک ہی پلیٹ فارم پر متحد ہوکر انکا مقابلہ کریں جب تک ہم تمام سیاسی پارٹیاں اور تنظیمیں اور شہری متحد نہیںہوتے اس وقت تک اپنے حقوق نہیں لے سکتے۔

انھوں نے کہاکہ جب تک اٹک سیمنٹ انتظامیہ اپنی زیادتیاں ترک نہیں کرتا اور مقامی کنٹریکٹ و ڈیلی ویجز ملازمین کو مستقل نہیں کرتا اس وقت تک احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔

انھوں نے کہاکہ صرف اٹک سیمنٹ فیکٹری نہیں بلکہ حب میں قائم دیگر 172کے قریب فیکٹریوں میں بھی محنت کشوں کا ستحصال کیا جارہا ہے انہیں لیبر قوانین کے تحت مراعات نہیں مل رہے ہیں مقامی لوگوں کو ملازمتیں دینے کے بجائے دیگر صوبے و اضلاع کے لوگوں کو بھرتی کیا جاتا ہے جبکہ مقامی لوگوں کیلئے روزگار کے دروازے بند کر دیئے گئے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ ایک جانب فیکٹریوں میں محنت کشوں کے ساتھ ظلم وزیادتی انکا استحصال کیا جارہاہے تو دوسری جانب ضلع حب انتظامیہ بھی لوگوں کو بے روزگار کرنے پر تلے ہوئے ہیں تاجر وں کے دکانوں کو مسمار کرنے کے حوالے سے انہیں نوٹسسز جاری کئے گئے ہیں ۔

انھوں نے کہاکہ حب انتظامیہ کو بتادینا چاہتے ہیں کہ وہ اپنے اس فیصلے کو واپس لیں بصورت دیگر حب کے تمام تاجر سڑکوں پر نکل آئیں گے اور اپنی دکانوں کے سامنے لیٹ کراحتجاج کریں گے اور کسی بھی صورت دکانوں کو مسمار کرنے نہیں دینگے۔

Share This Article
Leave a Comment