بی ایل اے و ٹی ٹی پی کے پاس نیٹو اسلحہ ہے ، انوار الحق کاکڑ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

پاکستان کے نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا ہے کہ بی ایل اے ، ٹی ٹی پی اور داعش کے ہاتھ افغانستان میں موجود امریکی اسلحہ لگ گیا ہے ، پنجگور اور نوشکی کے حملوں میں یہی اسلحہ استعمال ہوا ہے ۔

انہوں نے گلگت بلتستان میں امراض قلب ہسپتال کا افتتاح کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ حقوق کی ذمہ داری ریاست کی ہے جسے احسن طریقے سے نبھائیں گے ۔ قوانین کا نفاذ کیا جائے گا،چند لوگ ایجنڈے پرہیں،کسی کو بھی معاشرے کو یرغمال بنانے کی اجازت کبھی نہیں دینگے، تقرریوں کےلئے بولیاں نہیں لگنے دینگے، بولیوں کا گلہ گھوٹنے آئے ہیں ، ملک میں کسی غیر ملکی ادارے کو مداخلت کی اجازت نہیں ہے ، پاکستان میں کسی اور کی ایجنسی نہیں پاکستانی اداروں کا ہی اثر ہو گا کسی کو غلط فہمی ہے تو ہو دور کر لیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اختیار الیکشن کمیشن کا تھا، لیکن صدر نے الیکشن کی تاریخ تجویز کردی۔ اب الیکشن کمیشن جلد ہی الیکشن کی مناسب تاریخ کا اعلان کرے گا، حلقہ بندیاں بھی آئینی انتخابی عمل کاحصہ ہیں، نگراں حکومت عام انتخابات کے لیے تیار ہے۔

انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ چاروں وزرائے اعلیٰ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ذخیرہ اندوزی، اسمگلنگ سے متعلق واضح ہدایت ہیں، بہت ساری جگہوں پر ایکشن بھی نظر آیا، مختلف علاقوں میں مثبت اثرات آئے ہیں، سیاسی پلیئرز نے کہا تھا بارڈر اضلاع میں تجارت کی اجازت دینی چاہیے، صوبائی حکومت کو اختیار دیا گیا جن گاڑیوں کو تجارت کی اجازت ہوگی، ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) انہیں ٹوکن جاری کریں گے، ڈی سی ان گاڑیوں سے فی گاڑی دو سے ڈھائی لاکھ روپے ہفتہ لیتے تھے۔

وزیراعظم نے کہا کہ چند بیورو کریٹس کی ان اضلاع میں ڈیڑھ دو سال تعیناتی رہی ہے، چند بیورو کریٹس کی تعیناتی میں عمل دخل رکھنے والے افراد کے خلاف ایکشن لیں گے، ہمارے کریک ڈائون سے روپے کی قدر میں بہتری آئی، ہم نے صرف ایک کام کیا جو بھی قوانین ہیں ان پر عمل کیا جائے، ہم وہ شواہد جمع کر رہے ہیں جو عدالت میں بھی ان کے خلاف پیش کیے جا سکیں۔

Share This Article
Leave a Comment