قلات میں بے روزگار نوجوانوں نے ڈپٹی کمشنرقلات دفتر کے سامنے دھرنا ختم کرکے کوئٹہ کے لئے لانگ مارچ شروع کردی۔
لانگ مارچ پہلے دن منگچر پہنچا جہاں پر لوگوں نے جوہان کراس بازار میں اس کااستقبال کیا اور ہار پہنائے۔
اس موقع پر شرکا سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین کامریڈ عبدالواحد پندرانی اور میر صدام لہڑی نے کہا کہ ہر جگہ ہر سطح پر میرٹ پامالی ہورہی ہے لوگوں بنیادی ضروریات زندگی میسر نہیں ہے پانی ، بجلی اور گیس جیسی اہم ضروریات نہیں مل رہی ہے جس کے لیے ہم سب کو نکل کر جدوجہد کرنا ہوگا سرکاری ملازمتوں کی بندر بانٹ اور خریدوفروخت سے معاشرے کے پڑھے لکھے قابل نوجوانوں میں مایوسی پیدا کردی ہے .انصافی سے نوجوان دلبرداشتہ ہورہے ہیں ان ناانصافیوں کے خلاف آواز اٹھا کر ہم احتجاجی لانگ مارچ کررہے ہیں اپنے مطالبات کی منظوری تک جدوجہد کرتے رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ملازمتوں پر تقرریوں کی باقاعدہ لسٹ جاری ہونی چاہیے فردا فردا آرڈرز کرکے غریب قابل نوجوانوں کے حقوق چھینے گئے ہیں اس کے خلاف تمام مکاتب فکر کو ہمارا ساتھ دینا چاہیے کیونکہ ہم ذاتی کاذ کے لیے نہیں پورے ضلع کے اجتماعی کاذ کے لیے جدوجہد کررہے ہیں لانگ مارچ کوئٹہ کی جانب روانہ ہوا لانگ مارچ کے شرکا احتجاجا علامتی کفن بھی پہنے ہوئے تھے۔