گلگت بلتستان میں امن وامان کے نام پر فوج بھیجنے کا فیصلہ

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

پاکستان کے علاقے گلگت بلتستان میں امن وامان کے نام پر فوج بھیجنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے ۔

یہ فیصلہ گزشتہ روز گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ کی سربراہی میں پارلیمانی امن کمیٹی کے اجلاس کے دوران کیا گیا۔

حکام نے خطے کے بڑے شہروں میں رینجرز، گلگت بلتستان اسکاؤٹس اور فرنٹیئر کور (ایف سی) اہلکاروں کو تعینات کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

واضع رہے کہ ان دنوں گلگت بلتستان میں لوگ اپنی قومی شناخت اورحقوق کیلئے آئے روزپر امن احتجاج کر رہے ہیں۔

فوج طلب کرنے کا فیصلہ دیامر کے علاقے چلاس میں مظاہروں کے بعد سامنے آئی ہے۔

کہا جارہا ہے کہ مشتعل مظاہرین نے اسکردو سے تعلق رکھنے والے ایک مذہبی رہنما کی مبینہ طور پر متنازع ریمارکس دینے پر گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے شاہراہ قراقرم اور بابوسر پاس روڈ کو 3 روز تک بند رکھا۔

استور، گلگت میں بھی احتجاجی مظاہرے کیے گئے، تاہم مذہبی رہنما آغا باقر الحسینی کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج کے بعد مظاہرے ختم کر دیے گئے۔

اس کے ردعمل میں اسکردو میں بازاروں اور ٹرانسپورٹ کی ہڑتال کی گئی اور مظاہرین نے جگلوٹ-اسکردو روڈ سمیت اہم سڑکوں کو بھی بلاک کردیا۔

بعدازاں گلگت بلتستان کی حکومت نے مسافروں کی حفاظت اور گاڑیوں کی نقل و حرکت کو یقینی بنانے کے لیے قراقرم ٹاسک فورس اور پولیس اہلکاروں کو قرقرام ہائی وے، جگلوٹ-اسکردو روڈ اور بابوسر ٹاپ پر تعینات کرنے کا فیصلہ کیا۔

گزشتہ روز گلگت میں پارلیمانی امن کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں خطے میں امن و امان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، اجلاس کی صدارت وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حاجی گلبر خان نے کی اور اس میں متعدد وزرا، چیف سیکریٹری گلگت بلتستان، ہوم سیکریٹری، پولیس چیف اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ارکان نے شرکت کی۔

گلگت بلتستان کے محکمہ اطلاعات کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جلسوں میں کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والوں کے عقائد اور مقدس ہستیوں کی توہین کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ خطے کی مجموعی صورتحال اور قیام امن کے لیے فوج بلائی جائے گی، علاوہ ازیں بڑے شہروں میں رینجرز، جی بی اسکاؤٹس اور ایف سی کے اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔

اعلامیے میں مزید کیا گیا کہ حکومت امن و امان کو برقرار رکھنے اور کسی بھی صورت حال میں سیاحتی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے لیے تمام اقدامات اٹھائے گی۔

اس سلسلے میں محکمہ داخلہ گلگت بلتستان نے فوری طور پر غیر قانونی اجتماعات اور سڑکیں بلاک کرنے پر دفعہ 144 نافذ کر دی ہے، خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

حکومت نے شہریوں پر بھی زور دیا ہے کہ وہ اتحاد اور ہم آہنگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں۔

پریس ریلیز میں کہا گیا کہ ہمیں یقین ہے کہ لوگ ایسے شرپسند عناصر کو مسترد کر دیں گے جو خطے میں بھائی چارے اور امن کے خلاف ماحول پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، قانون نافذ کرنے والے ادارے ایسے عناصر کو منہ توڑ جواب دینے کے لیے پرعزم ہیں۔

اس میں مزید کہا گیا ہے کہ گلگت بلتستان حکومت ان لوگوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے جو سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے نفرت پھیلاتے ہیں۔

دریں اثنا اسپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن (ایس سی او ایم) نے کہا کہ گلگت بلتستان میں موبائل انٹرنیٹ سروسز بند کر دی گئی ہیں اور صرف 2-جی سروس چل رہی ہے۔

ایس سی او ایم نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ حکومت اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے حکم پر کیا گیا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment