ضلع گوادر: جیونی سے بڑے پیمانے پر انسانی اسمگلنگ کے دھندے کا انکشاف

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچستان کے مکران کوسٹل ہائی وے انسانی اسمگلروں کے لیئے آسان ہدف بن گیا ہے ۔

ضلع گوادر کے تحصیل جیونی سے بڑے پیمانے پر انسانی اسمگلنگ کا دھندے کا انکشاف ہواہے ۔

اس سلسلے میں بتایا جاتا ہے کہ انسانی اسمگلنگ میں ملوث ایجنٹ بیرون ممالک جانے کے خواہش مند لوگوں کو بذریعہ مکران کوسٹل ہائی وے جیونی کے مقام پر پہنچا دیتے ہیں جہاں سے انہیں بزریعہ سمندری راستہ ایران لے جایا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز سوشل میڈیا میں جیونی کے ساحل کنارے ایک اسپیڈ بوٹ میں بڑی تعدادمیں لوگوں کو غیرقانونی طور پر ایران لے جانے کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں انسانی اسمگلنگ کے ایجنٹ لوگوں کو اسپیڈ بوٹ میں بٹھا رہے ہیں۔

ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پاکستان کوسٹ گارڑڈجیونی کی جانب سے ایک پریس ریلیز جاری کیا گیا جس میں یہ کہا گیا کہ مذکورہ ویڈیو پرانی ہے تاہم پاکستان کوسٹ گارڑڈنے اپنے موقف میں یہ کہا ہے کہ انہوں نے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران 400سے زائد لوگوں کو سمندر پار کرتے ہوئے گرفتار کیا ہے جبکہ بدھ کے روز بھی ایک کارروائی کے دوران دو کشتیوں میں سوارتقریباً 30 سے زائد غیرمقامی لوگوں کو گرفتار کیاگیااور کشتیوں اور انکے ناخداؤں کو گرفتار کرکے قانونی کارجوئی کے لیئے ایف آئی اے کے حوالے کردیا گیا۔

پاکستان کوسٹ گارڈ کے مطابق انکے اہلکار ہرروز غیرمقامی لوگوں کو گرفتار کررہے ہیں۔

انکے مطابق ایک ہفتے کے دوران جیونی میں پاکستان کوسٹ گارڈ کی طرف سے جیونی کے سمندر کنارے چھاپہ مارنے پر 400 سے زائد غیرمقامی لوگوں کو سمندر پار جاتے ہوئے گرفتار کیا گیا ہے ۔

ذرائع نے بتایا کہ انسانی اسمگلنگ کے زیادہ تر کیسزدوسرے بارڈر پر رپورٹ ہوئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ایف آئی اے گوادرنے ایک ماہ کے دوران 76افراد گرفتار کرکے ان پرپاسپورٹ ایکٹ کے تحت مقدمات درج کرکے عدالتوں میں پیش کیے ہیں اور جو لوگ غیرمقامی ہوتے ہیں انکے خلاف فارن ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا جاتا ہے۔

ذرائع کے مطابق مکران کوسٹل ہائی وے سے جیونی اور وہاں سے بزریعہ سمندری راستے ایران جانے والے زیادہ تر لوگ وہ ہوتے ہیں جو ایران میں مزدوری کرنے کی غرض سے چلے جاتے ہیں ۔ان کے مطابق ابھی چونکہ اربعین(محرم کی چہلم )کی تہوارہونے والی ہے پاکستان کی شیعہ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی جیونی کے بارڈر سے ایران جارہے ہیں اس سلسلے میں جب ایف آئی اے ذرائع سے معلوم کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ ایف آئی اے مکران کوسٹل ہائی وے پر انسانی اسمگلروں کے خلاف کاروائی کررہی ہے۔

انہوں نے بتایاکہ جن لوگوں کے پا س سفری دستاویزات نہیں ہوتے ہیں ایف آئی اے انکے خلاف بھرپور کاروائی کررہی ہے ۔

معتبر ذرائع سے ملنے والی اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں سرگرم عمل انسانی اسمگلر اس غیر قانونی کاروبار سے تقریبا 15 کروڑ ڈالر سالانہ کماتے ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment