بحریہ بلوچ میں بڑے پیمانے پرغیر قانونی فشنگ ٹرالرز کی آمد ویلغارسے مقامی ماہیگیروں ذرائع معاش خطرے میں پڑگیا۔
مقا می ذرائع کے مطابق سندھ کے ٹرالر پسنی کے سمندر پہنچ گئے، جبل زرین، ماکولہ اور شمال بندن کے سمندر میں بڑی تعداد میں ٹرالر دیکھے گئے۔
غیر قانونی فشنگ ٹرالرز کی آمد ویلغار سے مقامی ماہی گیر وں کا ذرائع معاش خطرے میں پڑگیا ہے ۔
ذرائع بتاتے ہیں کہ ماہ اگست کے آتے ہی سندھ سے تعلق رکھنے والے ٹرالروں نے غیرقانونی طور پر شکار کے لیے بلوچستان کے سمندر کا رخ کرلیا۔
بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ رات پسنی کے سمندر میں جبل زرین،ماکولہ اور شمال بندن نامی علاقے میں ٹرالر بڑی تعداد میں دیکھے گئے ہیں۔
اس سلسلے میں جب مقامی ماہی گیروں سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بھی اِس بات کی تصدیق کی کہ سندھ سے تعلق رکھنے والے ٹرالر جبل زرین کے پیچھے دیکھے گئے ہیں۔
دوسری جانب محکمہ فشریز بلوچستان کے اعلیٰ حکام کے مطابق محکمہ فشریز بلوچستان غیرقانونی ٹرالنگ کی روک تھام کے لیے اقدامات اٹھا رہی ہے۔تاہم ماہی گیروں کا کہنا یہ ہے کہ سندھ سے تعلق رکھنے والے ٹرالر پہلے رات کی تاریکی میں آکر مچھلیوں کی نسل کشی کرتے تھے اب دن دہاڑے غیرقانونی ٹرالنگ کررہے ہیں۔
ماہی گیروں نے سوشل میڈیا پر چلنے والی ایک ویڈیو جس میں سندھ سے تعلق رکھنے والے ایک ٹرالر میں ہزاروں کلو جھینگا موجودگی کو فلمبند کیا گیا ہے اِس پر مقامی ماہی گیروں نے بتایا کہ یہ جھینگے کلمت،اورماڑہ اور پسنی کے سمندر میں غیرقانونی ٹرالنگ کے دوران شکار کیے گئے ہیں۔
غیرقانونی ٹرالنگ سے پسنی کے 3500 ہزار ماہی گیروں کا معاش متاثر ہورہا ہے۔پسنی،سندھ کے ٹرالر پسنی کے سمندر پہنچ گئے،جبل زرین،ماکولہ اور شمال بندن کے سمندر میں بڑی تعداد میں ٹرالر دیکھے گئےتاہم ماہی گیروں کا کہنا یہ ہے کہ سندھ سے تعلق رکھنے والے ٹرالر پہلے رات کی تاریکی میں آکر مچھلیوں کی نسل کشی کرتے تھے اب دن دہاڑے غیرقانونی ٹرالنگ کررہے ہیں۔