فلسطینی پناہ گزینوں کی امداد کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے یوناٹیڈ نیشنز ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی فار پیلسٹینین ریفیوجیز یا یو این آر ڈبلیو اے کا کہنا ہے کہ اس نے لبنان میں واقع فلسطینی پناہ گزینوں کے سب سے بڑے کیمپ کے اندر مسلح افراد کی موجودگی پر احتجاج کرتے ہوئے جمعے کے روز اس کیمپ میں اپنی تمام خدمات معطل کردی ہیں۔
ادارے کے فیصلے پر لبنان کے جنوبی بندرگاہی شہر صیدا کے نزدیک واقع عین ا لحلوہ کیمپ میں جمعے کو دوپہر سے کچھ پہلے عمل در آمد شروع ہو گیا۔
ادارے نے کہا ہے کہ ہفتے کے روز سے اس کی سروسز پھر سے بحال ہو جائیں گی۔
فلسطینی صدر محمود عباس کے فتح گروپ اور دو اسلامی عسکری گروپوں جند الشام اور شباب المسلم کے درمیان کئی روز تک کیمپ کی گلیوں میں لڑائیاں ہوتی رہیں ہیں۔
یہ جھڑپیں 30 جولائی کو فتح گروپ کی جانب سے یہ الزام لگانے کے بعد شروع ہوئیں کہ اس کے حریف عسکری گروپوں نے الفتح کے ایک سینئیر فتح فوجی افسر کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے امدادی ادارے کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ کیمپ کے اندر ہونے والی لڑائیوں میں کم از کم 13 افراد ہلاک اور درجنوں دوسرے زخمی ہو چکے ہیں جب کہ املاک کو لاکھوں ڈالر کا نقصان پہنچا ہے۔
لبنان کی سیکیورٹی فورسز پناہ گزیں کیمپوں کے اندر کوئی مداخلت نہیں کرتیں۔ ان کیمپوں کی سیکیورٹی کے معاملات کو فلسطینی دھڑوں کی عسکری تنظیمیں دیکھتی ہیں جن کے درمیان اپنا اثر بڑھانے کے لیے اکثر مقابلہ ہوتا رہتا ہے۔
یو این آر ڈبلیو اے نے جمعے کے روز اپنے بیان میں کہا کہ مسلح جنگجو کیمپ کے مختلف حصوں میں اب بھی موجود ہیں جن میں اسکول بھی شامل ہیں۔
اپنے بیان میں عالمی امدادی ادارے نے فلسطینی دھڑوں کے مسلح گروپوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی تنصیبات کو خالی کر کے چلیں جائیں تاکہ ان ضرورت مندوں تک امداد کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے جن کی انہیں اشد ضرورت ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارے کا کہنا ہے انہیں ایسی کارروائیاں قابل قبول نہیں ہیں جو ادارے کی جانب سے فراہم کی جانے والی سہولتوں تکریم اور غیر جانب داری کو اثر انداز ہوتی ہوں۔
عالمی امدادی ایجنسی کامزید کہنا تھا کہ بار بار کی خلاف ورزیوں اور بڑے پیمانے پر نقصانات کی خبروں کے پیش نظر نئے تعلیمی سال کے آغاز پر کم ازکم تین ہزار دو سو بچوں کے لیے تعلیمی سہولت دستیاب نہیں ہو سکے گی۔
لبنان کے جنوبی ساحلی شہر صیدا کے قریب یہ فلسطینی پناہ گزینوں کا سب سے بڑا کیمپ ہے، جس میں پناہ گزینوں کی تعداد عموماً 70 ہزار سے زیادہ رہتی ہے۔