وینزویلا کی جیل میں گارڈ کی فائرنگ سے 40 قیدی ہلاک

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read
The dead man's body. Focus on hand

وینزویلا کے شہر گوانارے کی جیل میں ہونے والے جھگڑے اور فساد کے نتیجے میں کم از کم 17 قیدی ہلاک ہوگئے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ‘اے ایف پی’ کے مطابق فوجی حکام نے بتایا کہ لوس لانوس کی جیل میں نقص امن کی شکایات موصول ہوئیں جس کے نتیجے میں 17 افراد ہلاک اور 9 زخمی ہو گئے۔

فوج نے جھگڑے کی کوئی وجہ نہیں بتائی لیکن قیدیوں کے انسانی حقوق کے گروپ نے دعویٰ کیا کہ یہ جھگڑا اس وقت شروع ہوا جب جیل انتظامیہ نے قیدیوں کے اہلخانہ کو ملنے اور جیل میں کھانا لانے سے منع کردیا تھا تاکہ کورونا وائرس کی وبا کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔

وینزویلا کی جیل کے نگراں ادارے کے عہدیدار کیرولینا گیرون نے بتایا کہ اہلخانہ سے ملاقات نہ ہونے کے سبب قیدی بہت مایوس تھے کیونکہ ان کے پاس کھانے اور پینے کو کچھ نہیں تھا جبکہ اکثر قیدی غذائی قلت کا شکار ہیں۔

نیشنل گارڈ نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ مسلح قیدیوں نے جیل کا مرکزی دروازہ توڑنے کی کوشش کی جس پر اہلکاروں نے ان پر فائرنگ کردی البتہ بعد میں ایک اعلیٰ افسر نے ان قیدیوں سے مذاکرات کر کے انہیں منا لیا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ فوج کا ماننا ہے کہ جیل میں کئی زیادہ اموات ہوئی ہیں اور رکن پارلیمنٹ ماریا مارٹینیز نے ‘اے ایف پی’ سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ جیل میں کم از کم 40 افراد مارے گئے۔

https://twitter.com/oveprisiones/status/1256399006495920129

مارٹینیز نے بتایا کہ قیدی مطالبہ کر رہے تھے کہ ان سے اہلخانہ کو ملاقات کی اجازت دی جائے تاکہ وہ انہیں کھانے کا سامان فراہم کر سکیں اور اس معاملے پر جیل کے مسلح اہلکاروں اور قیدیوں میں جھگڑا ہو گیا۔

رپورٹ کے مطابق زخمی ہونے والے جیل کے ڈائریکٹر بھی شامل ہیں جن کی کمر میں چوٹ آئی جبکہ ایک لیفٹیننٹ گرینیڈ حملے میں زخمی ہوئے۔

ہلاک اور زخمی ہونے والوں کو ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے جہاں زخمیوں کا علاج جاری ہے۔

قیدیوں کی انسانی حقوق کی تنظیم ‘او وی پی’ نے کہا کہ جیل میں مرنے والوں کے حوالے سے سرکاری اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے اور قیدیوں کے فرار کی بات کو بہانہ قرار دیتے ہوئے حکومت سے معاملے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

وینزویلا میں اب تک 335 افراد میں وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 10 افراد اس مرض کا شکار ہو کر ہلاک ہو چکے ہیں۔

ملک بھر میں وائرس کا پھیلاو¿ روکنے کے لیے قیدیوں کی اپنے اہلخانہ سے ملاقات پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ وینزویلا کی جیلیں اسلحے اور منشیات کی اسمگلنگ کے جرائم میں ملوث ملزمان سے بھری ہوئی ہیں اور جیل میں گنجائش سے زیادہ قیدی موجود ہیں جس کی وجہ سے اکثر پرتشدد واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment