پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور سے ملحقہ قبائلی ضلعے خیبر کے مختلف علاقوں میں حالیہ دنوں کے دوران دہشت گردی کے واقعات کے خلاف تحصیل باڑہ کے مرکزی بازار میں خیبر امن جلسے کا انعقاد کیا گیا جس سے مقامی سیاسی و مذہبی رہنماؤں نے خطاب کیا۔
’باڑہ سیاسی اتحاد‘ کے اس امن جلسے میں شرکا نے ہاتھوں میں سفید جھنڈے تھامے ہوئے تھے جن پر لفظ ’امن‘ درج تھا۔
امن جلسے سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان، عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے صوبائی جنرل سیکریٹری سردار حسین بابک، مسلم لیگ (ن) کے شہاب الدین خان، پشتون تحفظ موومنٹ کے منظور پشتین، باڑہ سیاسی اتحاد کے صدر شاہ فیصل آفریدی نے خطاب کیا۔
مقررین کا مطالبہ تھا کہ حکومت اور فورسز علاقے میں امن قائم کرنے کے لیے سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ وادیٴ تیراہ میں دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے کیوں کہ ضلع خیبر کے عوام مزید نقل مکانی کی متحمل نہیں ہیں۔
امن جلسہ کے شرکا نے مطالبہ کیا کہ تیراہ میں جن جگہوں پر فوج یا ایف سی تعینات ہے ان زمینوں کا معاوضہ دیا جائے۔
یہ بھی کہا گیا کہ بلا ضرورت چیک پوسٹوں کا خاتمہ کیا جائے جب کہ تیراہ میدان کی مسجد سے آرمی اور ایف سی کو نکال کر مسجد کو عوام کے لیے کھول دیا جائے۔
مقررین نے کہا کہ تیراہ کے انٹرنیلی ڈسپلیسڈ پرسنسز(آئی ڈی پیز) یعنی اپنے گھروں سے نقل مکانی کرنے والوں کا جلد سروے کرکے ان کو اپنے علاقوں میں جانے کی اجازت دی جائے اور ان کےنقصانات کا ازالہ کیا جائے۔
تیراہ میں تاجروں کے نقصان کا ازالہ کرنے اور علاقے میں بھتہ خوری کی روک تھام پر بھی زور دیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ علاقے میں ہونے والے بم دھماکوں کو روکا جائے۔ عوام کو تحفظ فراہم کرکے ٹارگٹ کلنگ ختم کی جائے۔
رواں سال 25 جولائی کو وادی تیراہ میں ’باڑہ سیاسی اتحاد‘ کے زیر اہتمام امن مارچ منعقد کیا گیا تھا جس میں اعلان کیا گیا تھا کہ 12 اگست کو باڑہ بازار میں امن جلسے کا انعقاد کیا جائے گا جب کہ ضلع خیبر میں قیامِ امن کے لیے اس طرح کے امن مارچ و جلسوں کا انعقاد کیا جائے۔
دوسری طرف کوکی خیل قوم نے بھی جمرود بازار میں قیامِ امن کے لیے امن جلسے کا اعلان کیا ہے تاہم اس کی تاریخ پر تاحال اتفاق نہیں ہوا۔
باڑہ میں ’خیبر امن جلسے‘ کے موقع پر پولیس کے جانب سے سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔